مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اسرائیلی کیخطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش،دفتر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
دنیا مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر خاموش نہ رہیبلکہ اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرائے،پاکستان کا مطالبہ
عالمی برادری فلسطینی عوام کے حقوق اور حق خودارادیت کے تحفظ کیلئے فوری اقدامات کرے
دفتر خارجہ پاکستان نے کہا ہے کہ اسرائیلی وزراء کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی خطے کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش ہے، دنیا اس پر خاموش نہ رہے بلکہ اسرائیل کو جواب دہ ٹھہرائے۔عالمی برادری فلسطینی عوام کے حقوق اور حق خودارادیت کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان مسجد اقصیٰ کی اشتعال انگیز اور جارحانہ بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے، اسرائیلی وزرائ، عہدیداروں اور کنیسٹ کے ارکان سمیت ہزاروں اسرائیلی آباد کاروں کی طرف سے بے حرمتی کی گئی۔ترجمان نے کہا کہ اسرائیلی حکام کی موجودگی میں ’’ٹیمپل ماؤنٹ ہمارا ہے‘‘ جیسے نفرت آمیز اعلانات کیے گئے، یہ اعلانات دنیا بھر میں مذہبی جذبات کو بھڑکانے اور تناؤ کو بڑھانے کی کوشش ہیں، اعلانات مسجد اقصیٰ کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک خطرناک اور دانستہ کوشش ہیں۔ وزارت خارجہ کے مطابق اسرائیل کی توسیع پسندانہ کوششیں خطے کو غیر مستحکم کرنے اور امن کو خراب کرنے کی کوشش ہیں، دنیا کو غیر قانونی، غیر انسانی جارحیت پر خاموش نہیں رہنا چاہئے، اس طرح کے اقدامات بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ اور او آئی سی کی مختلف قراردادوں کی بھی خلاف ورزی ہیں، پاکستان عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ اسرائیل کو اس پر جوابدہ ٹھہرایا جائے۔دفتر خارجہ نے کہا کہ عالمی برادری مسجد اقصیٰ کے مذہبی تقدس کے لیے اقدامات کرے، وزارت خارجہ کے بیان میں پاکستان نے ایک مرتبہ پھر اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ایک خودمختار، آزاد، قابلِ عمل اور باہم مربوط فلسطینی ریاست کا قیام ہی مسئلہ فلسطین کا پائیدار ہے، فلسطین کا قیام جون 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ہو اور دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: عالمی برادری دفتر خارجہ کہ اسرائیل نے کہا کہ بے حرمتی کی کوشش کرنے کی کو غیر
پڑھیں:
مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
عالمی ادارہ ایمنسٹی انٹرنیشنل بھارت میں غیر سرکاری تنظیموں اور تنقیدی آوازوں کو دبانےکا مذموم منصوبہ سامنے لے آیا۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت8انسانی حقوق کی تنظیموں نے فارن کنٹری بیوشن ریگولیشن ایکٹ کے قواعد میں کی جانے والی ترمیم واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کےمطابق بھارت کے نئےغیرملکی فنڈنگ قوانین، سول سوسائٹی پر سخت نگرانی اورتنظیم سازی کی آزادی کے حق کو دبا رہے ہیں۔
انسانی حقوق،پالیسی تحقیق،عوامی شعور،قانونی اصلاحات اورحکومتی احتساب پرکام کرنے والی ہزاروں تنظیمیں زد میں آئیں گی ، بھارت کے قوانین عالمی اصولوں کیخلاف ہیں جن کے ذریعے این جی اوز پرغیر ضروری اور حد سے زیادہ پابندیاں عائد کی گئیں۔
بھارتی حکومت گزشتہ ایک دہائی میں انسانی حقوق کی 22 ہزار 498تنظیموں کی رجسٹریشن منسوخ کر کےانہیں کام سے روک چکی ، اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی 2016میں این جی اوز پر پابندیوں کے کالے قوانین کو ختم کرنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے مطابق بھارتی حکومت یہ قوانین تنقید کرنے والی این جی اوزکو دبانے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ مالیاتی شفافیت کے نام پر بنائے گئے یہ قوانین دراصل سول سوسائٹی کو کنٹرول کرنے کا ہتھکنڈہ بن چکے ہیں۔