اسلام آباد:

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی توسیع پسندانہ پالیسی خطے کو غیر مستحکم کرنے کی سازش ہے۔

اسرائیلی وزرا اور دیگر کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور اشتعال انگیزی پر پاکستان کی جانب سے شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔  وزارت خارجہ  نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سینئر اسرائیلی حکام کی موجودگی اور ان کا یہ مکروہ اعلان کہ ’’ٹیمپل ماؤنٹ ہمارا ہے‘‘ نہ صرف عالمی سطح پر مذہبی جذبات کو مشتعل کرنے کی خطرناک اور دانستہ کوشش ہے بلکہ اس کا مقصد حالات کو بگاڑنا اور مسجد اقصیٰ کی حیثیت کو تبدیل کرنا ہے۔

وزارتِ خارجہ نے خبردار کیا کہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ پالیسی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت خطے کو غیر مستحکم کرنے اور امن کے کسی بھی ممکنہ راستے کو تباہ کرنے کی کوشش ہے۔ ان اقدامات سے خطے میں بڑے پیمانے پر تشدد کی ایک خطرناک لہر بھڑکنے کا خدشہ ہے۔

پاکستان نے عالمی برادری، خصوصاً اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اس کے غیر قانونی اقدامات پر جوابدہ ٹھہرائیں اور مسجد اقصیٰ کی مذہبی حرمت کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ پاکستان نے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور انسانی حقوق کی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ جون 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ایک خودمختار، آزاد، قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہوگا۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کرنے کی

پڑھیں:

گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام

گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے انتخابات کے پیشِ نظر سیاسی ماحول شدید گرم ہو گیا ہے اور خیبر پختونخوا سے مبینہ طور پر پی ٹی آئی ورکرز کو بڑی تعداد میں گلگت بلتستان لائے جانے پر مقامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔

عوامی اور سیاسی مبصرین کے مطابق خیبر پختونخوا سے سیاسی کارکنوں کو بسوں کے ذریعے گلگت بلتستان منتقل کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونی دباؤ کے ذریعے یہاں کے مقامی سیاسی عمل کو اثر انداز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ انتخابی نتائج پر من مانے اثرات مرتب کیے جا سکیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ آنے والے ان انتخابات کو سبوتاژ کرنا نہ صرف جمہوری اقدار اور عوامی مینڈیٹ کی توہین ہے بلکہ یہ یہاں کے پرامن سیاسی عمل کو بھی شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء

مقامی سطح پر یہ الزام بھی سامنے آیا ہے کہ پی ٹی آئی نے ماضی میں جس طرح پورے پاکستان میں بے چینی، تباہی اور رکاوٹ کی سیاست کو فروغ دیا، اب وہ اسی تباہ کن نقطہ نظر کو گلگت بلتستان میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔

سوشل میڈیا اور سیاسی مہمات میں اب یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے سامنے اب 2 واضح راستے ہیں؛ ایک طرف پی ٹی آئی کے تحت مبینہ طور پر نفرت، تقسیم، افراتفری اور عدم استحکام کی سیاست ہے، تو دوسری طرف امن، خوشحالی، اتحاد اور ملکی ترقی کا راستہ ہے۔

عوامی آراء کے مطابق گلگت بلتستان کے غیور لوگ امن اور ترقی کو ترجیح دیتے ہیں اور وہ کسی بھی ایسی قوت پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں جو ان کے پرسکون خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہو۔ انتخابات کے اس نازک موقع پر عوام سے عقل مندی سے انتخاب کرنے اور ملک دشمن عزائم رکھنے والے عناصر کو مسترد کرنے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں تاکہ خطے کا امن برقرار رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی ٹی آئی تحریک انصاف جی بی الیکشن گلگت بلتستان

متعلقہ مضامین

  • گلگت بلتستان انتخابات: پی ٹی آئی پر مقامی سیاسی عمل کو متاثر کرنے اور افراتفری پھیلانے کا الزام
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • بحرین، جمعیت الوفاق کی شیعہ دینی امور میں مداخلت کی پرزور مذمت
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان