پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعرات کے روز کاروبار کے آغاز پر خریداری کا رجحان برقرار رہا، جس کی وجہ مضبوط معاشی امکانات اور اچھی کارپوریٹ آمدن رہی، بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس نے کاروباری دن کے ابتدائی گھنٹوں میں 700 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا۔

صبح 10 بجے کے ایس ای-100 انڈیکس 726.29 پوائنٹس یعنی 0.

50 فیصد اضافے کے ساتھ 145,814.78 پوائنٹس کی سطح پر موجود تھا۔

خریداری کا رجحان اہم شعبوں میں دیکھا گیا جن میں تیل و گیس کی تلاش، آئل مارکیٹنگ کمپنیاں، بجلی کی پیداوار اور ریفائنری شامل ہیں، بڑی کمپنیوں کے حصص جیسے کہ اے آر ایل، حبکو، ایم اے آر آئی، او جی ڈی سی، پی ایس او، اور پی پی ایل سبز زون میں ٹریڈ کرتے نظر آئے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری حجم 26 ارب روپے سے زائد، اسٹاک مارکیٹ کا مستقبل کیا ہوگا؟

واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی اسٹاک ایکسچینج نے اپنی تاریخی تیزی برقرار رکھی اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں 2,051 پوائنٹس یعنی 1.43 فیصد کا اضافہ ہوا، جس کے بعد انڈیکس 145,088.50 کی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اسٹاک انڈیکس کے 145,000 پوائنٹس کی سطح عبور کرنے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں پر سرمایہ کاروں کے اعتماد کا اظہار ہے۔

وزیراعظم نے اسٹاک مارکیٹ کی تیزی کو کاروبار دوست اصلاحات کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ سرمایہ کاری کو فروغ دینا ان کی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی برقرار، 100 انڈیکس 1,42,000 کی سطح عبور کرگیا

جمعرات کے روز ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں اضافہ دیکھا گیا، جبکہ جاپان کی مارکیٹ نے ریکارڈ سطح کو چھو لیا۔ وال اسٹریٹ پر ٹیکنالوجی حصص میں تیزی، اچھی کارپوریٹ آمدن اور امریکہ میں شرح سود میں کمی کی توقعات نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو سہارا دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان یوکرین جنگ پر ممکنہ ملاقات نے یورپین مارکیٹ کو سہارا دیا، جبکہ روس پر پابندیوں کے امکانات کا جائزہ لیتے ہوئے تیل کی قیمتوں پر دباؤ دیکھا گیا۔

ادھر مارکیٹ نے ٹرمپ کی نئی تجارتی دھمکیوں کو نظرانداز کیا، جن میں بھارت سے روسی تیل کی خریداری پر اضافی 25 فیصد ٹیرف اور چپس پر 100 فیصد ڈیوٹی شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے ایک اور نیا ریکارڈ قائم کردیا

جاپان کا ٹوپکس انڈیکس 0.9 فیصد اضافے سے اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا، جبکہ ٹیکنالوجی پر مبنی نکی انڈیکس نے بھی اسی شرح سے اضافہ کیا۔

تائیوان کا اسٹاک انڈیکس 2.3 فیصد بڑھ کر ایک سال کی بلند ترین سطح پر آ گیا جبکہ جنوبی کوریا کا کوسپی 0.6 فیصد بڑھا، ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 0.4 فیصد اور چین کے مین لینڈ کے بلیو چِپس 0.3 فیصد بڑھے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

100 انڈیکس امریکی صدر او جی ڈی سی ایشیائی اسٹاک مارکیٹس بینچ مارک پاکستان اسٹاک ایکسچینج پی ایس او پی پی ایل ڈونلڈ ٹرمپ روسی صدر شہباز شریف وزیر اعظم ولادیمیر پیوٹن یوکرین

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: 100 انڈیکس امریکی صدر او جی ڈی سی ایشیائی اسٹاک مارکیٹس پاکستان اسٹاک ایکسچینج پی ایس او پی پی ایل ڈونلڈ ٹرمپ شہباز شریف ولادیمیر پیوٹن یوکرین

پڑھیں:

بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

دنیا کی سب سے بڑی اور مقبول ترین کرپٹو کرنسی ’بٹ کوائن‘ کی قیمت میں اچانک تاریخی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کے بعد یہ 70 ہزار ڈالر کی نفسیاتی سطح سے بھی نیچے گر گیا ہے۔

مارکیٹ رپورٹ کے مطابق اس اچانک کمی کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرپٹو مارکیٹ سے تقریباً 80 کروڑ (800 ملین) ڈالر مالیت کی لیوریجڈ ٹریڈنگ پوزیشنز یکدم ختم (لیکویڈیٹ) ہو گئی ہیں، جس سے سرمایہ کاروں کو شدید ترین نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

قیمتوں میں گراوٹ اور مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں کمی

مارکیٹ کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق منگل کو ’بٹ کوائن‘ کی قیمت گر کر تقریباً 69,400 ڈالر کی کم ترین سطح پرآگئی، جو گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4.4 فیصد کی نمایاں ترین کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟

مارکیٹ کیپٹلائزیشن کے لحاظ سے دنیا کی سرفہرست 10 کرپٹو کرنسیوں میں یہ سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ بٹ کوائن کے اس زوال کے اثرات پوری کرپٹو مارکیٹ پر مرتب ہوئے، جس کے باعث مجموعی ڈیجیٹل مارکیٹ ویلیو 3 فیصد سے زیادہ کمی کے بعد تقریباً 2.47 ٹریلین ڈالر تک نیچے آگئی ہے۔

ٹریڈرزکے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے

کرپٹو مارکیٹ کے اعداد و شمار فراہم کرنے والے معتبر عالمی ادارے ’کوائن گلاس‘ کے مطابق حالیہ فروخت کے شدید دباؤ کی وجہ سے 24 گھنٹوں میں 800 ملین ڈالر کی پوزیشنز مارکیٹ سے آؤٹ ہوئیں۔

ڈیٹا کے مطابق لانگ پوزیشنزمیں تقریباً 700 ملین ڈالر (قیمت بڑھنے کی امید پر لگائے گئے سودے) جبکہ شارٹ پوزیشنز میں تقریباً 100 ملین ڈالر (قیمت گرنے کی امید پر لگائے گئے سودے) شامل ہیں۔

سب سے زیادہ نقصان بٹ کوائن سے منسلک ٹریڈرز کو برداشت کرنا پڑا، جن کی تقریباً 500 ملین ڈالر مالیت کی پوزیشنز ڈوب گئیں، جو کہ مجموعی مارکیٹ لیکویڈیشنز کا سب سے بڑا حصہ ہے۔

’ای ٹی ایف‘ آؤٹ فلو دباؤ میں اضافہ

کرپٹو کرنسی سے وابستہ مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق اس بڑی فروخت کی سب سے بڑی وجہ اسپاٹ بٹ کوائن ایکسچینج ٹریڈ فنڈ (ای ٹی ایف)  سے سرمایہ کاروں کا مسلسل پیسہ نکالنا ہے۔

مزید پڑھیں:مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران بٹ کوائن مضبوط، قیمت 80 ہزار ڈالر تک پہنچنے کا امکان

اسپاٹ بٹ کوائن ای ٹی ایف سے مسلسل 11 تجارتی سیشنز سے سرمایہ کا اخراج (نیٹ آؤٹ فلو) ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ اسپاٹ ’ایتھیریم ای ٹی ایف‘ سے بھی مسلسل 15 سیشنز سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔

کرپٹو تجزیہ کار ’ایمبر سی این‘ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ جب سے اسپاٹ ای ٹی ایف مصنوعات کا آغاز ہوا ہے، بٹ کوائن اور ایتھیریم کی قیمتیں ای ٹی ایف فنڈز کے بہاؤ سے بہت زیادہ منسلک ہو چکی ہیں، یہی وجہ ہے کہ فنڈز کے اخراج کا براہِ راست اور فوری اثر قیمتوں پر پڑ رہا ہے۔

ایتھیریم مارکیٹ میں نسبتاً مستحکم

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس شدید مندی کے دوران دوسری بڑی کرپٹو کرنسی ’ایتھیریم‘ نے مارکیٹ میں نسبتاً بہتر اور مستحکم کارکردگی دکھائی۔ ایتھیریم کی قیمت تقریباً 1,970 ڈالر کے قریب برقرار رہی اور اس میں بٹ کوائن کے مقابلے میں کم اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔

ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ اگر ای ٹی ایف سے سرمایہ کے اخراج کا یہ سلسلہ نہ رکا تو کرپٹو مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ عالمی سرمایہ کار آنے والے چند دنوں میں مارکیٹ کے رجحان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اخراج ای ٹی ایف بٹ کوائن ڈالر سرمایہ کاروں عالمی سرمایہ کرپٹو مارکیٹ گراوٹ ماہرین معیشت ملین ڈالر

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر