ویسٹ انڈیز کا پاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز کیلئے 15 رکنی سکواڈ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
ویسٹ انڈیز کا پاکستان کیخلاف ون ڈے سیریز کیلئے 15 رکنی سکواڈ کا اعلان WhatsAppFacebookTwitter 0 7 August, 2025 سب نیوز
ٹرینیڈاڈ(شاہ خالد )پاکستان کے خلاف 3 ون ڈے میچز کی سیریز کے لیے ویسٹ انڈیز کے 15 رکنی سکواڈ کا اعلان کردیا گیا ہے۔
ویسٹ انڈیز کے سکواڈ میں کپتان شائے ہوپ کے علاوہ دیگر کھلاڑیوں میں جیول اینڈریو، جے دیا بلیڈز، کیاسی کارٹی، روسٹن چیز، میتھیو فورڈ، جسٹن گریوز، عامر جانگو، شمار جوزف، برینڈن کنگ، ایون لوئس، گوداکیش موتی، شرفین ردر فورڈ، جیڈن سیلز اور روماریو شیفرڈ شامل ہیں۔
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان تین میچوں کی سیریز کا پہلا ون ڈے 8 اگست کو کھیلا جائے گا جبکہ دوسرا ون ڈے 10 اگست اور تیسرا ون ڈے 12 اگست کو کھیلا جائے گا۔
دوسری جانب ویسٹ انڈیز نے پاکستان کے خلاف ون ڈے سیریز میں فاسٹ بولر الزاری جوزف کو آرام دے دیا جبکہ آل راؤنڈر روماریو شیفرڈ کو اسکواڈ میں میں شامل کرلیا، الزاری جوزف اپنا ورک لوڈ منیجمنٹ جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب روماریو شیفرڈ نے آخری ایک روزہ میچ دسمبر 2024 میں کھیلا اور رواں برس وہ انگلینڈ اور آئرلینڈ کے خلاف سیریز میں ٹیم کا حصہ نہیں تھے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارتی پرزے روسی جنگی ڈرونز میں استعمال ہونے کا انکشاف بھارت نے سنسنی خیز مقابلے کے بعد انگلینڈ کو آخری ٹیسٹ میں شکست دیدی، سیریز 2-2سے برابر قومی کرکٹ ٹیم کے جارح مزاج اوپننگ بیٹر فخر زمان دورہ ویسٹ انڈیز سے باہر ہوگئے پاکستان کی شاندار فتح؛ ویسٹ انڈیز کو شکست دیکر ٹی ٹوئنٹی سیریز اپنے نام کرلی پاکستانی کھلاڑیوں پر ورلڈ چیمپئن شپ آف لیجنڈز میں شرکت پر پابندی کا فیصلہ ویسٹ انڈیز نے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں پاکستان کو سنسنی خیز مقابلے کے بعد شکست دی ایشیا کپ 2025 کے وینیوز کا اعلان، دبئی اور ابوظہبی میں میدان سجے گا،پاک انڈیا ٹاکرا بھی فائنل،Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ویسٹ انڈیز کا اعلان
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔