امریکہ، روس کو حساس معلومات فراہم کرنے کی کوشش کے الزام میں امریکی فوجی گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
واشنگٹن (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔07 اگست ۔2025 )روسی حکومت کو جنگی ٹینکوں کی حساس معلومات فراہم کرنے کی کوشش کے الزام میں امریکی فوجی کو گرفتار کر لیا گیا ہے امریکی وزارتِ انصاف کے مطابق امریکی فوج اہلکار کو گرفتار کرلیا گیا ہے جس پر الزام ہے کہ وہ امریکی جنگی ٹینکوں کی حساس معلومات روسی حکومت تک پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا.
(جاری ہے)
ٹیلر ایڈم لی جو ایک ٹاپ سیکریٹ سیکیورٹی کلیئرنس رکھتے ہیں، پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے امریکی جنگی ٹینک M1A2 ایبرمز کی کارروائیوں اور اس کی کمزوریوں سے متعلق معلومات روسی حکومت کو فراہم کرنے کی کوشش کی، تاکہ اس کے بدلے وہ روسی شہریت حاصل کر سکیں ایف بی آئی کے کاﺅنٹر انٹیلی جنس ڈویژن کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر رومن روزھاوفسکی نے ایک بیان میں کہا کہ یہ گرفتاری ان افراد کے لیے پیغام ہے جو امریکہ کے ساتھ غداری کرنے کا سوچ رہے ہیں، خاص طور پر وہ فوجی اہلکار جو اپنے وطن کی حفاظت کا عہد کر چکے ہیں.
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے شراکت دار امریکی شہریوں کی حفاظت اور خفیہ معلومات کی حفاظت کے لیے ہر ممکن اقدامات کریں گے رپورٹ کے مطابق گزشتہ ماہ امریکی فوجی اہلکار ٹیلر ایڈم لی نے ایک ایس ڈی کارڈ کسی ایسے شخص کے ساتھ شیئر کیا تھا، جسے وہ روسی انٹیلی جنس افسر سمجھ رہا تھا اس کارڈ میں امریکی جنگی ٹینکوں اور دیگر فوجی آپریشنز کے بارے میں حساس دستاویزات موجود تھیں ان دستاویزات پر کنٹرولڈ انکلاسفائیڈ انفارمیشن کا نشان بھی موجود تھا رپورٹ کے مطابق اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور لی نے ابھی تک عدالت میں اپنے الزامات کے حوالے سے کوئی جواب نہیں دیا.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کرنے کی کوشش امریکی فوجی کے مطابق
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔