انوشے اشرف نے شوہر کا انتخاب کیسے کیا؟ دلچسپ کہانی سنا دی
اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT
ٹیلی وژن کی معروف میزبان، اداکارہ اور سابق وی جے انوشے اشرف نے حال ہی میں اپنی شادی کی دلچسپ کہانی سنائی کہ کیسے وہ اپنے شوہر سے ملیں اور پھر شادی کے لیے راضی ہوئیں۔
انوشے اشرف نے ’گڈ مارننگ پاکستان‘ میں بطور مہمان شرکت کی جہاں انہوں نے مختلف موضوعات پر گفتگو کی اور اپنی شادی کی کہانی بھی سنائی۔ اداکارہ نے بتایا کہ ہماری مائیں ایک ہی ایرانی کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہیں، جس میں شیرازی، خراسانی، اور اصفہانی گروپس شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس بچپن کی ایک تصویر بھی ہے جب ہمارے خاندان پہلی بار ملے تھے۔ اب میرے شوہر مذاق کرتے ہیں کہ اس تصویر میں پہلے سے ہی میری شادی کا منصوبہ دکھائی دیتا ہے کیونکہ میں خوش نظر آ رہی ہوں جبکہ وہ ڈرا ہوا لگ رہا ہے۔
انوشے اشرف کا کہنا تھا کہ 2020 میں لاک ڈاؤن سے قبل مجھے برطانیہ جانا تھا، والدہ کو بھی ساتھ لے گئی تھی جب وہاں پہنچے تو شہاب کی والدہ نے انہیں کھانے کی دعوت دی، اس دوران شہاب بھی اتفاقاً وہاں موجود تھے کیونکہ وہ والدین کے ساتھ نہیں رہتے تھے۔
اداکارہ کے مطابق جب شہاب نے مجھے دیکھا تو وہ حیران رہ گئے اور پوچھا کہ شادی نہیں ہوئی میں نے بتایا کہ نہیں ہوئی پھر ہم نے واٹس ایپ نمبرز کا تبادلہ کیا اور رابطے میں رہے، پھر لاک ڈاؤن ہوا۔ ہم نے کچھ بار فیس ٹائم کیا، بعد میں لندن میں چھٹیوں کے دوران دوبارہ ملے، اور بالآخر شادی کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: انوشے اشرف رشتہ ازدواج میں منسلک، دولہا کون ہیں؟
انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر رئیل اسٹیٹ کے شعبے سے وابستہ ہیں اور کیمسٹری میں تعلیم حاصل کی ہے، ان کے والد ریاض میں کام کرتے تھے اور بعد میں برطانیہ منتقل ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ انوشے نے اپنے شوبز کیریئر کا آغاز کم عمری میں کیا تھا۔ وہ پہلی بار انڈس میوزک/ایم ٹی وی پاکستان کے میوزیکل شوز اور لائیو ٹرانسمیشنز میں نظر آئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ’گلوں میں رنگ بھرے‘ انوشے عباسی کے لہنگا چولی فوٹو شوٹ کے چرچے؟
ان کا شمار پاکستان میں وی جیز کی پہلی کھیپ میں ہوتا ہے۔ انوشے کو اپنی اسٹائلش اور بولڈ شخصیت کی وجہ سے بہت سراہا جاتا ہے۔ وہ ڈان نیوز کے مشہور مارننگ شو ’چائے، ٹوسٹ اور ہوسٹ‘ کی میزبان بھی تھیں۔
اداکارہ انوشے اشرف کی شادی کی تقریبات کا آغاز اس سال اپریل میں ترکیہ میں ہوا تھا جس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی تھیں۔ جنہیں صارفین نے خوب پسند کیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انوشے اشرف انوشے اشرف شادی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت