وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا منفرد انداز، خاتون سے پرفیوم کا مطالبہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
سٹی42: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا ایک پُرخلوص اور دلچسپ ردعمل سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا جب انہوں نے اپنی خوشبو لانچ کرنے والی خاتون سے پرفیوم کا مطالبہ کر دیا۔
معاملہ اس وقت منظر عام پر آیا جب ایک باصلاحیت خاتون نے مریم نواز شریف کی تصویر کے ساتھ ایک پرفیوم بطور خراجِ تحسین لانچ کیا۔ یہ انوکھا اور تخلیقی اقدام سوشل میڈیا پر خوب سراہا گیا۔
10 مرلہ میں 2 پودے ،1کنال میں 4 پودے لگانے کی پابندی
مریم نواز نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ "ایکس" (سابقہ ٹوئٹر) پر ردعمل دیتے ہوئے ہنستے ہوئے انداز میں کہا کہ مجھے بھی ایک پرفیوم چاہیے۔ان کا یہ پیغام نہ صرف وائرل ہو گیا بلکہ عوام نے بھی بڑی تعداد میں اس اقدام کو سراہا۔
مریم نواز کا خوشگوار انداز سوشل میڈیا صارفین کو بے حد پسند آیا۔ صارفین نے خاتون کی تخلیقی سوچ اور وزیراعلیٰ کے عوامی انداز کو سراہا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔