لاہور مسلم لیگ (ن) کے رکنِ پنجاب اسمبلی چوہدری نعیم اعجاز کے گھر کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (CCD) نے چھاپہ مارا، جس نے سیاسی و عوامی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ محکمے کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اُن افراد کی گرفتاری کے لیے کی گئی جو اغوا اور نازیبا ویڈیوز بنانے جیسے سنگین الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ترجمان CCD کے مطابق، ایم پی اے نعیم اعجاز کو پہلے ہی ملزمان کی تفصیلات اور الزامات سے آگاہ کر دیا گیا تھا اور ان سے کہا گیا تھا کہ اپنے ڈیرہ انچارج کو حکام کے حوالے کریں، کیونکہ وہ ایک دہشت گردی کے مقدمے میں بھی نامزد ہیں۔ محکمے کا مؤقف ہے کہ چھاپہ مکمل شواہد اور قانونی تقاضوں کے تحت مارا گیا۔

دوسری طرف، چوہدری نعیم اعجاز کے ترجمان نے اس کارروائی کو غیر قانونی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف قرار دیا۔ ان کا دعویٰ ہے کہ CCD اہلکار بغیر کسی مکمل تحقیق کے گھر میں داخل ہوئے، سیکیورٹی گارڈز کی تلاشی کے بہانے لوٹ مار کی اور نقدی بھی ساتھ لے گئے۔ ان کے مطابق، یہ عمل قانونی کارروائی نہیں بلکہ ڈکیتی تھا۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پنجاب میں قانون نافذ کرنے والے ادارے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف مہم تیز کر چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مجرمانہ سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات ضروری ہیں، لیکن عوامی نمائندوں کے گھروں پر چھاپے شفافیت، غیر جانبداری اور سیاسی محرکات کے سوالات کو بھی جنم دیتے ہیں۔ اس کیس نے ایک بار پھر اس بحث کو ہوا دی ہے کہ قانون نافذ کرنے کے نام پر کی جانے والی کارروائیاں کہاں تک غیر جانبدار رہتی ہیں۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن(Establishment Division) نے دفتری نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ماحول کو بہتر بنانے کے لیے نیا سرکلر جاری کرتے ہوئے تمام افسران اور اہلکاروں کو مقررہ دفتری اوقات، بائیومیٹرک حاضری اور لباس کے ضوابط پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

جاری کردہ سرکلر کے مطابق تمام ملازمین کے لیے صبح 8 بجے سے شام 4 بجے تک کے سرکاری اوقاتِ کار پر مکمل عمل درآمد لازمی ہوگا، جبکہ مقررہ وقت پر دفاتر میں حاضری یقینی بنانے کے لیے بائیومیٹرک حاضری کے نظام پر سختی سے عمل کرنے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

سرکلر میں سرکاری ملازمین کے لیے ڈریس کوڈ بھی واضح کیا گیا ہے۔ ہدایات کے مطابق افسران اور اہلکار یا تو لاؤنج سوٹ پہنیں یا پھر شلوار قمیض کے ساتھ ویسٹ کوٹ زیب تن کریں تاکہ دفاتر میں پیشہ ورانہ اور باوقار ماحول برقرار رکھا جا سکے۔

مزیدپڑھیں:آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دفتری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے راہداریوں میں شور شرابے اور بلند آواز میں گفتگو سے بھی گریز کرنے کی ہدایت کی ہے، تاکہ سرکاری امور کی انجام دہی کے دوران پرسکون اور منظم ماحول برقرار رہے۔

سرکلر میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ تمام ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور متعلقہ افسران کو ان پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • غیر قانونی سگریٹ برآمد، 11 ٹرکوں سے 2 کروڑ 50 لاکھ سگریٹ ضبط
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف
  • جوز بٹلر نے یونیورس باس کو بھی پیچھے چھوڑ دیا
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اہم ٹیلیفونک رابطہ، پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا، سہیل آفریدی پر الزام، مریم نواز اور بلاول کے ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار