وزیراعظم کا آذربائیجان کے صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، آرمینیا سے امن معاہدے پر مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 10th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے آرمینیا کے ساتھ دہائیوں سے جاری تنازع ختم کرکے امن معاہدہ کرنے پر مبارک باد دی اور دو طرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے آذربائیجان کے صدر الہام علیوف سے ٹیلیفون پر گفتگو کی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں حال ہی میں آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان طے پانے والےتاریخی امن معاہدے پر صدر علیوف اور آذربائیجان کے عوام کو مبارک باد دی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تین دہائیوں پرانے تنازع کو پرامن انجام تک پہنچانے اور قفقاز کے علاقے کے لیے خوش حالی کے نئے دور کا آغاز کرنے میں صدر الہام علیوف کے بصیرت انگیز کردار کی تعریف کی۔
وزیراعظم نے اس تاریخی معاہدے کو منطقی بنانے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کو خاص طور پر سراہا۔
آذربائیجان کے صدر علیوف نے کاراباخ کے معاملے پر آذربائیجان کے ساتھ پاکستان کی دیرینہ اور مسلسل حمایت کو سراہا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستانی عوام اس بنیادی مسئلے پر اپنے آذربائیجانی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ ہیں اور یہ بات خوش آئند ہے کہ صدر الہام علیوف کی جرات مندانہ قیادت اور مدبرانہ قیادت میں اس خطے میں بالآخر امن قائم ہو گیا۔
ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران صدر علیوف نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پرامن ماحول سے پاکستان اور وسطی ایشیا کے درمیان ترقی اور روابط بڑھانے کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعاون کے مثبت انداز پر اطمینان کا اظہار بھی کیا، لاچن اور خانکنڈی میں حالیہ بات چیت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے صدر الہام علیوف کو جلد ہی پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی اپنی دعوت کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر الہام علیوف کے درمیان شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے سائڈ لائنز پر تیانجن میں ملاقات بھی متوقع ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: وزیراعظم شہباز شریف آذربائیجان کے صدر صدر الہام علیوف کے درمیان
پڑھیں:
جےیوآئی کے سینئررہنما حافظ حمداللہ لاپتہ ہوگئے
کوئٹہ(نیوز ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مرکزی رہنما حافظ حمداللہ سے کئی گھنٹوں تک رابطہ نہ ہونے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں اور پارٹی کارکنوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔
تفصیلات کے مطابق حافظ حمداللہ کے صاحبزادے حافظ خلیل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے والد کا موبائل فون بند آ رہا ہے اور ان کے ساتھ موجود ساتھیوں سے بھی رابطہ نہیں ہو پا رہا۔
انہوں نے کہا کہ حافظ حمداللہ آج بلوچستان کے علاقے سنجاوی میں ایک پروگرام میں شرکت کیلئے گئے تھے، تاہم چند گھنٹوں سے ان سے کوئی رابطہ قائم نہیں ہو سکا جس کے باعث اہل خانہ اور پارٹی رہنماؤں میں تشویش پیدا ہوئی۔
دوسری جانب جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر زیارت سے رابطہ کیا۔
پارٹی ذرائع کے مطابق ڈپٹی کمشنر زیارت نے مولانا عبدالغفور حیدری کو آگاہ کیا کہ حافظ حمداللہ محفوظ مقام پر موجود ہیں اور ان کی خیریت سے متعلق کوئی تشویش کی بات نہیں۔
واقعے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد جے یو آئی کے کارکنوں اور رہنماؤں کی جانب سے حافظ حمداللہ کی جلد از جلد عوامی سطح پر موجودگی اور رابطے کی بحالی کی خواہش کا اظہار کیا گیا ہے۔
پارٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ رابطہ منقطع ہونے کی وجہ سے مختلف قیاس آرائیاں جنم لے رہی تھیں، تاہم انتظامیہ کے بیان کے بعد صورتحال کسی حد تک واضح ہو گئی ہے۔
مزید تفصیلات اور سرکاری وضاحت سامنے آنے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں۔بجلی صارفین متوجہ ہوں،اہم اعلان سامنے آگیا