سیلز ٹیکس رجسٹر تاجروں کیلئے سیل پوائنٹ کو ایف بی آر سسٹم سے منسلک کرنا لازمی
اشاعت کی تاریخ: 11th, August 2025 GMT
کراچی (نوائے وقت رپورٹ+این این آئی) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت معیشت کو دستاویزی شکل دینے کے مشن کے تحت سیلز ٹیکس رجسٹرڈ افراد کے لیے سخت قوانین تیار کر لیے ہیں۔ نئے قوانین کے مطابق پوائنٹ آف سیل کو ایف بی آر کے کمپیوٹرائزڈ سسٹم سے منسلک کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ کاروباری مقامات کی نگرانی کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے جائیں گے جبکہ بنک کارڈ مشینیں اور آن لائن کاروبار کو بھی ایف بی آر کے سسٹم سے لنک کرنا ہو گا۔ ایف بی آر کے مطابق الیکٹرانک رسیدوں کا اجرا، ڈیبٹ، کریڈٹ کارڈ مشین، کیو آر کوڈ اور دیگر ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کو ایف بی آر سے منسلک کرنا لازمی ہو گا۔ آن لائن فروخت کے لیے ویب سائٹس، سافٹ ویئرز اور موبائل ایپلی کیشنز بھی ایف بی آر کے سسٹم سے مربوط ہوں گی۔ سیلز ٹیکس رجسٹرڈ افراد کو ٹیکس افسر کو کاروباری احاطے اور ریکارڈ تک رسائی دینا ہو گی۔ الیکٹرانک انوائسنگ سافٹ ویئر میں خرابی کی صورت میں ایف بی آر کو فوری اطلاع کرنا لازم ہو گا جبکہ سسٹم سے چھیڑ چھاڑ پر جرمانے اور پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انٹرنیٹ یا بجلی کی بندش کی صورت میں جاری کردہ آف لائن انوائسز کو24 گھنٹوں کے اندر سسٹم پر اپ لوڈ کرنا ضروری ہو گا۔ ایف بی آر ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے انفورسمنٹ نیٹ ورک قائم کرے گا اور کیو آر کوڈ یا ایف بی آر کے منفرد نمبر کے بغیر انوائسز جاری کرنے پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔کاروباری مقامات پر ایف بی آر کا لوگو اور انضمام کا سائن بورڈ نمایاں جگہ پر آویزاں کرنا ہو گا۔ انوائسز کا یومیہ، ہفتہ وار اور ماہانہ ریکارڈ مرتب کرنا اور ڈیٹا چھ سال تک محفوظ رکھنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ایف بی آر تکنیکی آڈٹ کے لیے ہدایات بھی جاری کر سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر کے کے لیے
پڑھیں:
تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے تیزی سے بڑھتی آبادی کو ملک کے لیے چیلنج قرار دے دیا۔وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت ملک میں بہبود آبادی کے حوالے سے جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزیراعظم نے نیشنل پاپولیشن کونسل کا اجلاس جلد از جلد بلانے کی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی ملک کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، آبادی پر قابو پانے کیلئے اقدامات اور بہبود آبادی کو قومی فریضہ سمجھا جانا چاہیے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آبادی میں توازن ہی پائیدار قومی ترقی کی ضمانت ہے، آبادی کی منصوبہ بندی کو قومی ترقی اور معاشی استحکام سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، بہبود آبادی اقدامات سے متعلق صوبوں کے ساتھ روابط اور ہم آہنگی مزید بہتر بنائی جائے، بڑھتی ہوئی آبادی پر قابو پانے کے مؤثر عوامی آگہی مہم کا کلیدی کردار ہے۔