پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی معاہدے کا مقصد دوطرفہ تجارت کو بڑھانا، سرمایہ کاری کو آسان بنانا اور توانائی، معدنیات، آئی ٹی اور کرپٹو کرنسی جیسے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ یہ معاہدہ پاکستان کی امریکی منڈی تک رسائی کو بہتر بنائے گا اور امریکی سرمایہ کاری کو پاکستان میں بڑھاوا دے گا۔

پاکستان کی بڑی برآمدات میں ٹیکسٹائل مصنوعات شامل ہیں، جو کافی عرصے سے بنگلہ دیش اور بھارت کی وجہ سے متاثر تھیں۔ چونکہ اب پاکستان اور امریکا کے تجارتی تعلقات بحال ہو رہے ہیں، اور دوسری جانب بھارت، بنگلہ دیش اور سری لنکا پر پاکستان سے زیادہ ٹیرف بھی عائد ہو چکا ہے، تو اس شعبے میں پاکستان کیا اب اپنی کھوئی ہوئی پہچان واپس حاصل کر سکے گا، اور پاکستان کو مجموعی طور پر لانگ ٹرم کیا فائدہ ہوگا؟

یہ بھی پڑھیں: وزارت تجارت کے لیے آئندہ 5برس میں برآمدات دُگنی کرنے کا ٹاسک

’امریکا پاکستان کے ریئر منرلز اور کان کنی کے شعبے میں دلچسپی رکھتا ہے‘

معاشی ماہر راجا کامران نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اس بارے میں بتایا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی تعلقات میں کئی پہلو زیر غور ہیں، امریکا خاص طور پر پاکستان کے ریئر منرلز اور کان کنی کے شعبے میں دلچسپی رکھتا ہے، جو اس وقت پاکستان کا نسبتاً کم ترقی یافتہ شعبہ ہے۔ امریکی کمپنیاں اس شعبے میں سرمایہ کاری کی خواہش مند ہیں، اور ان کی خاص توجہ ریکوڈک کے منصوبے پر مرکوز ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ ایک بڑے پیمانے کا منصوبہ ہے، جس میں 2027 میں کھدائی کا کام شروع کرنے کا منصوبہ ہے، فی الحال وہاں موجود سونے اور تانبے کے ذخائر کا تخمینہ لگایا جا رہا ہے، اس کے ساتھ ساتھ امریکا نے پاکستان میں آف شور منصوبوں میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ یہ وہ شعبے ہیں جن میں امریکا اپنی کمپنیوں کو پاکستان میں توسیع دینا چاہتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں راجا کامران نے کہاکہ اگر اس کے مقابلے میں پاکستان کی ٹیکسٹائل امریکا جاتی ہے، تو صورتحال کچھ مختلف ہے۔ ماضی میں امریکا میں ٹیکسٹائل کے لیے ایک مضبوط لابی موجود تھی، لیکن ٹرمپ دور میں اس کا اثر کم ہوا، جس کے بعد امریکی مارکیٹ پاکستان کے لیے نسبتاً کھل گئی۔

انہوں نے کہاکہ اگر بھارت پر 50 فیصد ٹیرف برقرار رہتا ہے، (حالانکہ امکان ہے کہ ایک سے 2 ماہ میں امریکا اور بھارت کا معاہدہ ہو جائے اور یہ ٹیرف ختم ہو جائے) تو پاکستان کو فائدہ ہو سکتا ہے، اسی طرح بنگلہ دیش پر بھی امریکی ٹیرف کم ہو سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر یہ ٹیرف برقرار رہے تو پاکستان کا ٹیکسٹائل سیکٹر بوسٹ کرسکتا ہے، لیکن اس کی گنجائش محدود ہے۔ مثال کے طور پر اگر دنیا میں ٹیکسٹائل کی ایک ہزار مصنوعات کی طلب ہے تو پاکستان ان میں سے صرف 100 بناتا ہے۔ اس لیے مصنوعات میں تنوع (Diversification) ضروری ہے۔ البتہ ہوم ٹیکسٹائل میں پاکستان نمایاں پوزیشن رکھتا ہے۔

راجا کامران کے مطابق اگر پاکستان کو امریکی مارکیٹ میں اپنی ٹیکسٹائل موجودگی بڑھانی ہے تو اس میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔ لیکن یہ سرمایہ کاری اسی وقت ممکن ہے جب یہ واضح ہوکہ بھارت اور بنگلہ دیش پر ٹیرف کب تک برقرار رہیں گے، کیونکہ یہی دونوں ممالک پر عائد ٹیرف پاکستان کے لیے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

’پاکستان اس صورت حال سے یقیناً فائدہ اٹھا سکتا ہے‘

معاشی امور کے ماہر عابد سلہری کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش پر پہلے تقریباً 2.

25 فیصد ٹیرف عائد تھا، جو اب بڑھ کر 20 فیصد ہو گیا ہے۔ سری لنکا پر بھی پہلے 10 فیصد ٹیرف تھا، جو اب 20 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ اسی طرح پاکستان پر 4.5 فیصد ٹیرف تھا جو اب 19 فیصد ہو چکا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اپنی بڑی برآمدات پر نظر ڈالیں، جن میں نِٹ، قریشیا کی مصنوعات اور ٹیکسٹائل اشیا شامل ہیں، تو پاکستان کا مقابلہ انہی ممالک سے ہے، جیسے بنگلہ دیش، سری لنکا، کمبوڈیا اور چین۔

عابد سلہری کے مطابق چین کی پیداواری صلاحیت بہت مؤثر ہے اور وہاں اشیاء کی تیاری کی لاگت بھی کافی کم ہے۔ مزید یہ کہ چین پر حتمی ٹیرف ابھی لاگو نہیں ہوا، اس لیے فی الحال بیجنگ کو تجزیے سے الگ رکھا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان اس صورت حال سے یقیناً فائدہ اٹھا سکتا ہے، اگر پاکستان اپنی بجلی کو سستی کرے، اس کے علاوہ پاکستان میں کوالٹی کپاس کی موجودگی کو یقینی بنایا جا سکے۔

’اکنامک ڈپلومیسی سے جو فائدہ ہونا تھا وہ ہو چکا ہے‘

عابد سلہری کے مطابق اکنامک ڈپلومیسی سے جو فائدہ ہونا تھا وہ ہو چکا ہے، کیونکہ ہم پر باقی ممالک کے مقابلے میں کم ٹیرف عائد ہوا ہے، لیکن اب اس کا فائدہ اٹھانے کے لیے ہمیں تھوڑی سی تیاری کرنا ہوگی، ہوم ورک کرنا ہوگا۔ اگر باقی ممالک کا شیئر نہ بھی لے پائیں تو انڈیا کی قریبا 7 سے 8 بلین ڈالر کی ٹیکسٹائل کی ٹریڈ جس پر 50 فیصد ٹیرف ہوگا، وہاں پر نہ صرف پاکستان بلکہ تمام ممالک تھوڑا تھوڑا شئیر لینے کی کوشش کریں گے، اور یہی ہمارا مقصد ہونا چاہیے۔

معاشی امور پر گہری نظر رکھنے والے سینیئر صحافی شہباز رانا کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پاکستان کی بڑی برآمدات میں ٹیکسٹائل ہے۔ بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد ہونے کے بعد پاکستان کی برآمدات بڑھنے کا امکان زیادہ ہوگیا ہے، تاہم اس کے ساتھ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ ٹیکسز، شرح سود اور اس کے علاوہ بجلی اور گیس کی قیمتوں کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان مستقل بنیاد پر امریکی مارکیٹ میں اپنی جگہ بنانا چاہتا ہے تو یہ تمام اقدامات ضروری ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکی اراکین کانگریس کا دورہ پاکستان دونوں مُلکوں کے تعلقات پر کس طرح اثرانداز ہو گا؟

شہباز رانا کا کہنا تھا کہ بھارت پر 50 فیصد ٹیرف لگنے کے باعث پاکستان کو شارٹ ٹرم فائدہ ضرور ہوگا، لیکن لانگ ٹرم فائدے کے لیے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی، ایکسچینج ریٹس کا مستحکم رہنا اور شرح سود میں کمی کرنا ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکی ٹیرف امریکی مارکیٹ بنگلہ دیش بھارت پاک امریکا اکنامک ڈپلومیسی پاکستان امریکا تعلقات تجارت ٹیکسٹائل برآمدات ملکی معیشت مواقع وی نیوز

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی ٹیرف امریکی مارکیٹ بنگلہ دیش بھارت پاکستان امریکا تعلقات ٹیکسٹائل برا مدات ملکی معیشت مواقع وی نیوز امریکی مارکیٹ پر 50 فیصد ٹیرف میں ٹیکسٹائل پاکستان میں سرمایہ کاری پاکستان کو تو پاکستان پاکستان کے پاکستان کی بنگلہ دیش ہو چکا ہے نے کہاکہ فائدہ ہو انہوں نے سکتا ہے کہ اگر کے لیے

پڑھیں:

پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے

سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔  اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ 

کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔ 

سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔ 

او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان