ٹرمپ کا ٹیکنالوجی چپس پر نرم رویہ، چین کے لیے راہیں کھلنے لگیں
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
امریکی صدر کی انتظامیہ نے رواں سال اپریل میں قومی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر چین کو این ویڈیا کی جدید ترین چپس کی فروخت پر پابندی عائد کردی تھی تاہم چپس کی جزوی فروخت کا عندیہ اس پالیسی میں نرمی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ چین کو ٹیکنالوجی چپس کی فروخت دوبارہ ممکن ہو سکتی ہے۔ امریکی صدر نے کہا کہ معروف امریکی کمپنی این ویڈیا کے پاس ایسی چپس موجود ہیں جن کی کارکردگی کمزور کردی گئی ہے اور یہ چپس چین میں فروخت کی جا سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے رواں سال اپریل میں قومی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر چین کو این ویڈیا کی جدید ترین چپس کی فروخت پر پابندی عائد کردی تھی تاہم چپس کی جزوی فروخت کا عندیہ اس پالیسی میں نرمی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی جانب سے یہ قدم تجارتی توازن قائم رکھنے اور این ویڈیا سمیت دیگر ٹیک کمپنیوں کو نقصان سے بچانے کی ایک کوشش ہو سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چپس کی
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔