میاں بیوی کی علیحدگی بچوں کی زندگیوں پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے، اور ایسے کئی واقعات روزمرہ زندگی اور عدالتوں میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ کراچی کی نوجوان ماہ نور کا ہے، جس کی زندگی ماں باپ کی علیحدگی کے باعث کئی مشکلات کا شکار ہے۔

ماہ نور کی کہانی 22 سال پرانی ہے، جب اس کے والدین کا طلاق ہوگیا تھا اور وہ صرف 9 ماہ کی تھی۔ چھوٹی عمر میں اس کے لیے باپ کی محبت اور تعلق کا مطلب سمجھنا مشکل تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ اپنے والد کی کمی محسوس کرنے لگی۔ 17 برس کی عمر میں ماہ نور نے اپنے ماموں کے ذریعے اپنے والد سے رابطہ کیا اور 2023 میں پہلی ملاقات کی، جو یادگار ثابت ہوئی۔ والد نے معافی مانگی اور ملاقات تحائف کے تبادلے کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

تاہم وقت کے ساتھ ماہ نور کے والد کے رویے میں تبدیلی آئی اور انہوں نے ماہ نور پر غلط الزامات عائد کرنے شروع کردیے، حتیٰ کہ وہ ٹارچر کا نشانہ بھی بنیں۔ مجبور ہو کر ماہ نور نے والد کا نمبر بلاک کر دیا۔

مزید پڑھیں: ’شکر گزار ہوں ہمارے بچے نہیں ہیں‘ آغا علی کی حنا الطاف سے طلاق کی تصدیق

اس سال ماہ نور کو اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنے والد کے کچھ دستاویزات درکار تھے تاکہ وہ اپنا ڈومیسائل اور قومی شناختی کارڈ بنوا سکے، لیکن والد نے نادرا میں علیحدگی کا اندراج نہیں کروایا اور دستاویزات فراہم کرنے سے انکار کیا۔

ماہ نور نے وفاقی محتسب نادرا سے رجوع کیا، جس نے اس کے حق میں فیصلہ دیا، مگر شناختی کارڈ جاری نہ کرنے کی وجہ سے ماہ نور کا ڈاکٹر بننے کا خواب متاثر ہو رہا ہے اور وہ ایم ڈی کیٹ کے امتحان میں بھی شامل نہیں ہو سکی۔

ماہ نور کی وکیل عثمان فاروق کے مطابق، والد کی جانب سے تعاون نہ کرنے کی وجہ سے عدالت نے نادرا اور دیگر متعلقہ فریقین سے 26 اگست تک جواب طلب کرلیا ہے تاکہ ماہ نور کے مسائل کا حل نکالا جا سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

شناختی کارڈ کراچی کی ماہ نور ماں باپ کی علیحدگی نادرا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: شناختی کارڈ کراچی کی ماہ نور ماں باپ کی علیحدگی شناختی کارڈ کی علیحدگی ماہ نور نے والد باپ کی

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان