بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے کا امکان، الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
لاہور:
بھارت کی جانب سے آئندہ 2 روز کے دوران دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے کا خدشہ ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق بھارتی ڈیمز میں پانی کی سطح میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بھاکڑا ڈیم ،61 پونگ ڈیم 76 اور تھین ڈیم 64 فیصد تک بھر چکے ہیں۔
دوسری جانب، بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب، ارسا اور محکمہ آبپاشی 24 گھنٹے دریاؤں و ڈیمز کی صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں۔
ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر سیلاب نچلے درجے سے معمول پر آ گیا ہے اور دریائے ستلج کے بہاؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
دریائے چناب میں مرالہ خانکی اور قادر آباد کے مقام پر درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب نے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایات کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریاؤں کے پاٹ میں موجود شہری فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور ہنگامی انخلاء کی صورت میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔
عوام الناس سے التماس ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں نہروں ندی نالوں اور تالابوں میں ہر گز مت نہائیں جبکہ سیلابی صورتحال میں دریاؤں کے اطراف پکنک اور غیر ضروری کراسنگ سے گریز کریں۔
ایمرجنسی کی صورتحال میں پی ڈی ایم اے پنجاب کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔
لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں مون سون کی بارش کا سلسلہ جاری ہے، لاہور میں صبح سویرے کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا۔
لاہور میں ہونے والی بارش سے گرمی اور حبس کی شدت میں کمی اگئی، شہر میں کم سے کم درجہ 28 ڈگری ریکارڈ ہوا جبکہ زیادہ سے زیادہ 31 ڈگری تک جانے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید بارش کا امکان ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے پنجاب دریائے ستلج
پڑھیں:
لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
لاہور میں مون سون کی شدید بارشوں نے معمولات زندگی متاثر کر دیے، کئی علاقوں میں سڑکیں، چوراہے اور انڈر پاسز پانی میں ڈوب گئے جبکہ ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران شہر میں 343 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث متعدد نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔
لاہور کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی جمع ہونے سے شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض سڑکوں اور گلیوں میں 3 سے 4 فٹ تک پانی کھڑا رہا، جبکہ کئی مقامات پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں بارش کے بعد کئی علاقے زیر آب، ’اب آفس جانےکے لیے کشتی کی ضرورت ہوگی‘
ڈیفنس کے فیز ون سے فیز فائیو تک مختلف مقامات پر پانی جمع ہونے سے ٹریفک متاثر ہوئی، جبکہ غازی انڈر پاس اور مسجد چوک انڈر پاس کو پانی بھرنے کے باعث بند کرنا پڑا اور ٹریفک کو متبادل راستوں پر منتقل کیا گیا۔
حربنس پورہ، مال روڈ، کوپر روڈ، لکشمی چوک اور چوبرجی چوک سمیت متعدد علاقوں میں بھی پانی جمع ہونے کی اطلاعات ملیں، جہاں واسا کی ٹیمیں نکاسی آب میں مصروف رہیں۔
شدید بارش کے باعث شہر کی کئی سڑکوں پر گڑھے بھی پڑ گئے۔ کینال روڈ، جوہر ٹاؤن مین بلیوارڈ اور بھیکے والا موڑ سمیت مختلف مقامات پر سڑکیں متاثر ہوئیں، جس کے بعد ٹریفک پولیس نے متاثرہ علاقوں کو بند کرکے متبادل راستے فراہم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: مون سون سیزن: لاہور سے ایک گھنٹے میں بارش کا پانی نکالنا ہدف ہے، ڈی ایم ڈی واسا
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق پنجاب میں حالیہ مون سون بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں اب تک 21 افراد جاں بحق اور 154 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 15 افراد مکانات گرنے، 2 آسمانی بجلی گرنے، 3 کرنٹ لگنے جبکہ ایک شخص ڈوبنے سے جاں بحق ہوا۔
واسا لاہور کے مطابق شہر میں ہنگامی بنیادوں پر نکاسی آب کا عمل جاری ہے، تمام ڈسپوزل اسٹیشن مکمل استعداد کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ متاثرہ مقامات پر اضافی مشینری اور عملہ تعینات کیا گیا ہے۔
ضلعی انتظامیہ اور واسا نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے، نشیبی علاقوں اور بجلی کے کھمبوں سے دور رہنے کی ہدایت کی ہے۔ شہریوں نے تاہم ہر سال بارشوں کے دوران پانی جمع ہونے کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بارش پانی زیر آب لاہور