بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے کا امکان، الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک: بھارت کی جانب سے آئندہ 2 روز کے دوران دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے کا خدشہ ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق بھارتی ڈیمز میں پانی کی سطح میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بھاکڑا ڈیم ،61 پونگ ڈیم 76 اور تھین ڈیم 64 فیصد تک بھر چکے ہیں۔
دوسری جانب، بالائی علاقوں میں بارشوں کے باعث پنجاب کے دریاؤں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔
زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں ڈین تعیناتی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
پی ڈی ایم اے پنجاب، ارسا اور محکمہ آبپاشی 24 گھنٹے دریاؤں و ڈیمز کی صورتحال کو مانیٹر کر رہے ہیں۔
ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر سیلاب نچلے درجے سے معمول پر آ گیا ہے اور دریائے ستلج کے بہاؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
دریائے چناب میں مرالہ خانکی اور قادر آباد کے مقام پر درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔
راولپنڈی میں ڈینگی کی شدت میں اضافہ۔ 58 نئے کیسز کی تصدیق
پی ڈی ایم اے پنجاب نے کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ محکموں کو الرٹ رہنے کی ہدایات کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریاؤں کے پاٹ میں موجود شہری فوری محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور ہنگامی انخلاء کی صورت میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔
عوام الناس سے التماس ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریاؤں نہروں ندی نالوں اور تالابوں میں ہر گز مت نہائیں جبکہ سیلابی صورتحال میں دریاؤں کے اطراف پکنک اور غیر ضروری کراسنگ سے گریز کریں۔
رونالڈو نے 8 سال تک ڈیٹنگ کے بعد جورجینا سے منگنی کر لی
ایمرجنسی کی صورتحال میں پی ڈی ایم اے پنجاب کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔
لاہور سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں مون سون کی بارش کا سلسلہ جاری ہے، لاہور میں صبح سویرے کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا۔
بانی تحریک انصاف کی ضمانت کی 8 اپیلوں پر پنجاب حکومت کو نوٹس جاری
لاہور میں ہونے والی بارش سے گرمی اور حبس کی شدت میں کمی اگئی، شہر میں کم سے کم درجہ 28 ڈگری ریکارڈ ہوا جبکہ زیادہ سے زیادہ 31 ڈگری تک جانے کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید بارش کا امکان ہے۔
Ansa Awais Content Writer.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: لاہور لاہور لاہور پی ڈی ایم اے پنجاب دریائے ستلج
پڑھیں:
نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
Huge crowd of students floods roads of Nashik.
Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY
— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026
ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘ کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔
دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج
یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک