پنجاب میں مون سون بارشوں کے باعث دریائے چناب اور ستلج میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہونے لگی۔

پی ڈی ایم اے نے دریائے چناب کے مرالہ، خانکی اور قادرآباد کے مقامات پر درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔

پی ڈی ایم اے کے مطابق گجرانوالہ، سرگودھا، فیصل آباد اور ملتان ڈویژنز کے کمشنرز کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے جبکہ نارووال، سیالکوٹ، گجرات، منڈی بہاوالدین، حافظ آباد، وزیر آباد، سرگودھا، خوشاب، جھنگ، چنیوٹ، خانیوال، کوٹ ادو، مظفرگڑھ اور ملتان سمیت 15 اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز کو فوری اقدامات کی ہدایات دی گئی ہیں۔

ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید نے تمام متعلقہ محکموں بشمول لوکل گورنمنٹ، زراعت، آبپاشی، صحت، جنگلات، لائیو اسٹاک اور ٹرانسپورٹ کو الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے تحت تمام تر انتظامات پیشگی مکمل کیے جائیں۔

ریسکیو 1122 کی ڈیزاسٹر رسپانس ٹیمیں ہائی الرٹ پر ہیں، جبکہ ایمرجنسی کنٹرول رومز میں 24 گھنٹے اسٹاف کی موجودگی کو یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریا، ندی، نالوں اور تالابوں میں نہانے سے گریز کریں، اور خطرے کی صورت میں فوری انخلاء کے لیے انتظامیہ سے تعاون کریں۔

فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کے مطابق گنڈا سنگھ والا کے مقام پر دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ 44,587 کیوسک سے بڑھ کر 50,508 کیوسک ہو چکا ہے۔

اس وقت گنڈا سنگھ والا پر نیچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، تاہم آئندہ چند گھنٹوں میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

پی ڈی ایم اے کی جانب سے عوام الناس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل کریں، محفوظ مقامات پر منتقل ہوں، اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں پی ڈی ایم اے ہیلپ لائن 1129 پر فوری رابطہ کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ڈی ایم اے

پڑھیں:

دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب

  رانا فرحان سعید:ساہیوال کے علاقے قطب شہانہ کے مقام پر دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث قریبی علاقوں میں زرعی اراضی زیرِ آب آنا شروع ہو گئی ہے۔

مقامی زمینداروں کے مطابق گزشتہ سال ٹوٹنے والے بند کی تاحال مرمت نہ ہونے سے سیلابی پانی موضع اورنگ آباد میں داخل ہو گیا ہے۔

سیلابی پانی کے باعث سینکڑوں ایکڑ زرعی اراضی متاثر ہوئی ہے، جبکہ 100 سے زائد ایکڑ پر کھڑی کماد، تل، مکئی اور دھان کی فصلیں زیرِ آب آ گئی ہیں۔ پانی داخل ہونے سے جانوروں کا چارہ بھی بہہ گیا، جس کے باعث کاشتکاروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی اب موضع اورنگ آباد اور موسیٰ پور کی نواحی آبادیوں کی جانب بڑھ رہا ہے، جس سے مزید علاقوں کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

زمینداروں نے الزام عائد کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ کی غفلت کے باعث گزشتہ سال متاثر ہونے والے بند کی بروقت مرمت نہیں کی گئی، جس کے نتیجے میں انہیں مسلسل دوسرے سال بھی کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

متاثرہ کاشتکاروں نے حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے فوری حفاظتی اقدامات، بند کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت اور متاثرین کے نقصانات کے ازالے کا مطالبہ کیا ہے۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

متعلقہ مضامین

  • دریائے راوی میں نچلے درجے کا سیلاب، زرعی اراضی اور فصلیں زیرِ آب
  • دریائے چناب میں سیلاب، تریموں ہیڈ پر پانی کی سطح بلند، چنیوٹ میں نہر میں شگاف سے فصلیں زیر آب
  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ جاری، پنجاب، خیبرپختونخوا اور کشمیر میں مزید بارش کی پیشگوئی
  • قادر آباد بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب، چناب میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب