دہشتگردوں کو پناہ نہیں دیں گے، ملک کا ہر حال میں دفاع کریں گے،باجوڑ کی لرآمدک قوم کا دوٹوک اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
خیبر پختونخوا کے ضلع باجوڑ کی تحصیل سالارزئی میں لرآمدک قوم نے گرینڈ جرگے کے دوران واضح اعلان کیا ہے کہ علاقے میں کسی بھی دہشت گرد کو پناہ نہیں دی جائے گی، اور جو ایسا کرے گا اسے علاقہ بدر کر دیا جائے گا۔
یہ اہم جرگہ بارو کے علاقے میں بزرگ رہنما **ملک فضل ربی** کی رہائشگاہ پر منعقد ہوا، جس میں لرآمدک قوم کے عمائدین، مشران اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
جرگے سے خطاب کرتے ہوئے ملک گل کریم خان، ملک فضل ربی، ملک شیر بہادر اور دیگر رہنماؤں نے کہا کہ سالارزئی کی سرزمین پر ہم کسی قسم کی دہشتگردی برداشت نہیں کریں گے۔ یہ ہمارا گھر ہے، ہم اسے کسی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے۔”
رہنماؤں نے کہا کہ نہ صرف دہشتگردوں کو پناہ دینے والوں کو علاقہ بدر کیا جائے گا بلکہ اگر کسی دہشتگرد نے علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کی تو اس کے خلاف لشکر کشی کی جائے گی۔
شرکاء نے علاقے کے امن، سلامتی اور دفاع کے لیے ایک صفحے پر ہونے کا اظہار کرتے ہوئے علاقے کی حفاظت کی قسم بھی اٹھائی ۔ جرگے میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ملک کے دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔
یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب باجوڑ میں فتنۂ خوارج سے تعلق رکھنے والے دہشتگردوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مقامی قبائل کی جانب سے ریاستی مؤقف کی حمایت اور دہشتگردی کے خلاف کھڑے ہونے کا یہ مؤقف امن کے قیام میں ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔یہ بیان باجوڑ کے قبائل کی ریاست سے وابستگی اور شدت پسندی کے خلاف واضح مؤقف کو اجاگر کرتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔