پاکستان نے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کردی
اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT
پاکستان نے ملکی و غیرملکی قرضوں کی ادائیگیوں کیلئے میچورٹی ٹائم بڑھانے کی آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کردی۔عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرط کے مطابق 2028 تک اوسطاً میچورٹی ٹائم پر عملدرآمد کی ڈیڈ لائن طے کرلی گئی ہے جس میں مقامی قرضوں پر اوسطاً میچورٹی ٹائم 3 سال 8 ماہ سے بڑھا کر سوا 4 سال کی جائے گی، جبکہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کیلئے اوسطا میچورٹی ٹائم سوا 6 سال تک بڑھایا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اوسطاً میچورٹی ٹائم بڑھنے سے آئندہ فنانسنگ ضروریات میں کمی لائی جا سکے گی، جبکہ آئندہ اقتصادی جائزہ سے قبل عملدرآمد رپورٹ بھی مشن کو بھیجی جائے گی۔اوسطاً میچورٹی ٹائم پر عملدرآمد کا آغاز رواں مالی سال سے ہی شروع کیا جائے گا، ابھی مقامی قرضوں کیلئے اوسطاً میچورٹی ٹائم 3.
شریعہ کمپلائنٹ کا حصہ آئندہ تین برسوں میں بڑھا کر 20 فیصد مقرر کیا جائے گا، جبکہ غیرملکی قرضوں کا حجم مجموعی قرضوں کے 40 فیصد سے زیادہ نہیں بڑھنے دیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: آئی ایم ایف قرضوں کی جائے گا
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔