Nawaiwaqt:
2026-06-03@08:33:56 GMT

پاکستان نے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کردی

اشاعت کی تاریخ: 12th, August 2025 GMT

پاکستان نے آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کردی

پاکستان نے ملکی و غیرملکی قرضوں کی ادائیگیوں کیلئے میچورٹی ٹائم بڑھانے کی آئی ایم ایف کی ایک اور شرط پوری کردی۔عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرط کے مطابق 2028 تک اوسطاً میچورٹی ٹائم پر عملدرآمد کی ڈیڈ لائن طے کرلی گئی ہے جس میں مقامی قرضوں پر اوسطاً میچورٹی ٹائم 3 سال 8 ماہ سے بڑھا کر سوا 4 سال کی جائے گی، جبکہ بیرونی قرضوں کی ادائیگی کیلئے اوسطا میچورٹی ٹائم سوا 6 سال تک بڑھایا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اوسطاً میچورٹی ٹائم بڑھنے سے آئندہ فنانسنگ ضروریات میں کمی لائی جا سکے گی، جبکہ آئندہ اقتصادی جائزہ سے قبل عملدرآمد رپورٹ بھی مشن کو بھیجی جائے گی۔اوسطاً میچورٹی ٹائم پر عملدرآمد کا آغاز رواں مالی سال سے ہی شروع کیا جائے گا، ابھی مقامی قرضوں کیلئے اوسطاً میچورٹی ٹائم 3.

8 سال اور غیرملکی قرضوں کی 6.1 سال ہے۔آئی ایم ایف کی شرط پر 30 فیصد مقامی قرض کیلئے ایوریج ٹائم ٹو ریفکس شرط پوری ہو گی، جبکہ نئی پالیسی کے مطابق مقامی قرضوں کا تقریبا 30 فیصد فکسڈ پالیسی ریٹ پر ہو گا۔

شریعہ کمپلائنٹ کا حصہ آئندہ تین برسوں میں بڑھا کر 20 فیصد مقرر کیا جائے گا، جبکہ غیرملکی قرضوں کا حجم مجموعی قرضوں کے 40 فیصد سے زیادہ نہیں بڑھنے دیا جائے گا۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: آئی ایم ایف قرضوں کی جائے گا

پڑھیں:

سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی

خلیج میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی سمندری تجارت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے کراچی(Karachi) اور گوادر(Gwadar) بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں، جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔

کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14,300 سے بڑھ جائے گی، خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔

میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔

مزیدپڑھیں:دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے

حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے، تاہم سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔

 کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں، پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سمرکیمپ سے متعلق احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، وزیر تعلیم پنجاب
  • کم از کم ماہانہ اجرت کتنی ہونی چاہیے؟  نئے مالی سال کے لیے سفارش کردی گئی
  • پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم