data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

لاہور (نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے27 ویں ترمیم پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترمیم ہولناک اور ملک کے لیے تباہ کن ہے، اس ترمیم میں صدر پاکستان کے لیے تاحیات استثنا اور محاسبہ کے نظام کے خاتمے کی جو تفصیلات سامنے آرہی ہیں وہ ہولناک ہیں، اپوزیشن اسے کلیتاً مسترد کرے۔ عوامی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پراپنے بیان میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ27 ویں ترمیم دینی، آئینی، جمہوری، سماجی و سیاسی اعتبار سے غلط اور شرمناک ہے اور یہ نظام انصاف پر شب خون مارنے کے مترادف ہے۔ امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ قوم انگشت بدنداں ہے کہ پی ڈی ایم اور پیپلزپارٹی کی جمہوریت کیا کیا گُل کِھلائے گی۔ حافظ نعیم نے کہا کہ وصیت، وراثت اور وڈیرہ شاہی پر پارٹی چلانے،  ممبران پارلیمنٹ کی خرید و فروخت کرنے والے عوام کے سامنے خود کو جواب دہی کا پابند سمجھتے تھے، نہ ہی عدالتوں کے سامنے جوابدہ رہنا چاہتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہمارا دین اور آئین صدر مملکت سمیت ریاست کے ہر فرد کو قانون کی پابندی کا حکم دیتا ہے، قرآن و سنت نے حکمرانوں کو قانون کی بالادستی قائم کرنے اور خود بھی سختی سے اس پر عمل پیرا ہونے کا حکم دیا ہے لیکن حکمران خود کو کسی آئین و قانون کا پابند نہیں سمجھتے، یہ ملک کو لا قانونیت کی دلدل میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن متحد ہوکر اس سازش کو ناکام بنائے اور اس ترمیم کو مکمل طور پر مسترد کردے۔

 

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار