وزیراعظم کی تاجکستان کے صدر سے ملاقات، باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں جاری تعاون پر اظہار اطمینان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, September 2025 GMT
وزیر اعظم شہباز شریف نے جمہوریہ تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے آج چین کے دارالحکومت بییجنگ میں ملاقات کی۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور تاجکستان کے درمیان باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں جاری تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔
دونوں رہنماؤں نے تجارت اور سرمایہ کاری، رابطے، توانائی، علاقائی سلامتی، ثقافت اور عوام سے عوام کے تبادلے سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
دونوں رہنماؤں نے مشترکہ ثقافتی، تاریخی اور مذہبی رشتوں میں جڑے پاکستان تاجکستان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دونوں رہنماؤں نے مشترکہ تشویش کے علاقائی اور عالمی مسائل پر بھی نقطہ نظر کا تبادلہء خیال کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں۔
اپنے تازہ بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے جس طرزِ عمل پر عمل پیرا ہے، اسے مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سفارتی حل اور معاہدہ ہی آگے بڑھنے کا بہترین راستہ ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کے تعطل سے متعلق خبروں کو بھی مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ بعض اطلاعات کے برعکس دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور بات چیت مسلسل جاری ہے اور مذاکرات کا عمل رکا نہیں ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی گفتگو مختلف معاملات پر جاری ہے، تاہم ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مذاکرات کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت کوئی بھی یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا کہ یہ مذاکرات کس سمت جائیں گے یا ان کا اختتام کس نوعیت کے معاہدے پر ہوگا، لیکن دونوں فریقوں کے درمیان رابطے برقرار ہیں۔
ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے، جوہری پروگرام، علاقائی کشیدگی اور اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے مختلف قیاس آرائیاں جاری ہیں۔
عالمی مبصرین کی نظریں بھی دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی رابطوں پر مرکوز ہیں کیونکہ کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے مشرق وسطیٰ اور عالمی سیاست پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔