اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی فل کورٹ میٹنگ کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, September 2025 GMT
اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججوں کی فل کورٹ میٹنگ کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی WhatsAppFacebookTwitter 0 3 September, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز)اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججوں کی فل کورٹ میٹنگ کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے اور ذرائع نے بتایا کہ ایجنڈے کی منظوری سے قبل نہیں کی گئی جبکہ پریکٹیس اینڈ پروسیجر اور اسٹیلشمنٹ رولز ایک ووٹ کی برتری سے اکثریت کی بنیاد پر منظور کیے گئے۔
ذرائع نے بتایا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس سرفراز ڈوگر کی سربراہی میں فل کورٹ اجلاس کا دورانیہ 35 منٹ پر مشتمل تھا جہاں پریکٹس اینڈ پروسیجر اور اسٹیبلشمنٹ رولز اکثریت رائے سے منظور کیے گئے جبکہ ایجنڈے کی منظوری سے قبل بحث نہیں کروائی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر اور اسٹیبلشمنٹ رولز 5-6 کی اکثریت سے منظور کیے گئے، چیف جسٹس سرفراز ڈوگر، جسٹس ارباب محمد طاہر، جسٹس خادم حسین سومرو، جسٹس اعظم خان، جسٹس محمد آصف اور جسٹس انعام امین منہاس نے حق میں ووٹ دیا۔
ذرائع کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس طارق جہانگیری، جسٹس بابر ستار، جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان اور جسٹس ثمن رفعت امتیاز نے منظوری کی مخالفت کی۔ذرائع نے بتایا کہ فل کورٹ میٹنگ کے ایجنڈے میں ترمیم کا دو ججوں کا خط میں کیا گیا مطالبہ مسترد کیا گیا اور ایک جج نے فل کورٹ میٹنگ موخر کرنے کا مطالبہ کیا۔ذرائع نے مزید کہا کہ اختلاف کرنے والے ججوں نے مطالبہ کیا کہ رولز کو پڑھنے کا وقت دیا جائے۔
ذرائع نے بتایا کہ فل کورٹ اجلاس میں ایجنڈے کے پہلے دو آئٹمز اتفاق رائے سے منظور کیے گئے، فیملی کورٹ کے جج کے اختیارات سے متعلق پہلا ایجنڈا آئٹم اتفاق رائے سے منظور کیا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمارت کے مسائل سے متعلق ایجنڈا بھی اتفاق رائے سے منظور کیا گیا اور مسائل سے متعلق معاملہ وفاقی حکومت کو بھجوانے کی منظوری دی گئی۔ذرائع نے بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ سروس رولز میں ترمیم کا ابتدائی ڈرافٹ مبینہ طور پر گم ہونے کا انکشاف کیا گیا، رولز میں ترمیم سے متعلق ابتدائی ڈرافٹ لاپتا ہونے کا معاملہ بھی اجلاس میں اٹھایا گیا اور ایک جج نے اس حوالے سے تحریری اختلافی نوٹ بھجوا دیا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکسی نجی تنظیم یا عام افراد کو سیلاب متاثرین میں کھانا تقسیم کرنے سے نہیں روکا، عظمی بخاری کسی نجی تنظیم یا عام افراد کو سیلاب متاثرین میں کھانا تقسیم کرنے سے نہیں روکا، عظمی بخاری بانی پی ٹی آئی کے بھانجے شاہ ریز خان کی درخواست ضمانت منظور سی ڈی اے مزدور یونین کے زیر اہتمام عید میلادالنبی کا عظیم الشان جلوس 6ستمبر کو برآمد ہوگا گورنر پنجاب نے جہیز سیلاب میں بہہ جانے پر9بچیوں کی شادی کی ذمہ داری اٹھا لی راولپنڈی اور مری میں ڈینگی کے وار جاری، 24گھنٹوں میں 11نئے کیسز رپورٹ وفاقی حکومت کا کراچی اور حیدرآباد کے درمیان نئی موٹروے بنانے کا فیصلہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: فل کورٹ میٹنگ اسلام آباد
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔