اسلام آباد میں سپریم کورٹ کی بیسمنٹ میں سلنڈر دھماکا، عمارت لرز اٹھی
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: سپریم کورٹ کی بیسمنٹ میں اچانک زوردار دھماکے کی آواز سنی گئی، جس سے عمارت لرز اٹھی۔
میڈیا پر جاری ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکا عمارت کی کینٹین میں موجود سلنڈر کے پھٹنے سے ہوا، جس کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا۔ دھماکے کے بعد ریسکیو اور سیکورٹی اہلکار موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکا بیسمنٹ میں نصب اے سی گیس پلانٹ کے قریب ہوا جس سے سپریم کورٹ کی عمارت لرز اٹھی اور وہاں موجود وکلا، عملہ اور دیگر افراد خوف کے عالم میں باہر نکل آئے۔
ابتدائی طور پر زخمیوں کی تعداد چار بتائی گئی ہے، تاہم اسپتال منتقل کیے گئے دو افراد کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
دھماکے کے فوراً بعد عمارت کے تمام داخلی و خارجی راستوں کو بند کر کے سیکورٹی سخت کردی گئی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کی آواز زوردار تھی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ حفاظتی اقدامات میں کسی قسم کی کوتاہی پائی گئی تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ سپریم کورٹ انتظامیہ نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ محکموں سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز