وفاقی کابینہ کی صدر پاکستان کو قیدیوں کی سزاؤں میں 100 دن کی کمی کی سفارش
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
وفاقی کابینہ نے صدر پاکستان کو آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت قیدیوں کی مختلف جرائم کی سزاؤں میں 100 دن کی کمی کی سفارش کی ہے۔
یہ سفارش 12 ربیع الاول کے مبارک دن کی مناسبت سے پیش کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد ٹریفک پولیس نے 12 ربیع الاول جلوس کے لیے پلان جاری کردیا
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کے مطابق یہ تجویز ’اسپیشل ریمیشن پالیسی 2025‘ کے تحت دی گئی ہے۔
تاہم یہ رعایت ان قیدیوں پر لاگو نہیں ہوگی جو سنگین جرائم، دہشتگردی، ریاست مخالف سرگرمیوں، زنا، قتل یا بدعنوانی کے مقدمات میں ملوث ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
100 دن کی کمی سزا صدرِ پاکستان وفاقی کابینہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 100 دن کی کمی صدر پاکستان وفاقی کابینہ
پڑھیں:
سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کے خلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کی جانب سے بیرسٹر ظفر اللہ جبکہ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، ایف آئی اے اور امیگریشن حکام بھی عدالت پیش ہوئے۔ عدالتی ہدایت پر بیرسٹر ظفر اللہ نے کوئٹہ پولیس کا خط پڑھا۔
جسٹس انعام امین منہاس نے استفسار کیا کہ متعلقہ پولیس کہہ رہی ہے بندہ نہیں چاہیے، ایف آئی اے کو بھی مطلوب نہیں، جن کو چاہیے تھا ان کو بھی اب نہیں چاہیے، پھر ابھی تک نام کیوں نہیں نکالا؟
ایف آئی اے حکام نے جواب دیا کہ ای سی ایل میں نام نہیں ہے، صرف پی این آئی لسٹ میں نام ہے جو 28 مارچ کو ڈالا گیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ اس لسٹ میں نام کتنے دن کے لیے ہوتا ہے اور کب مکمل ہوئی؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ ایک ماہ کے لیے ہوتا ہے اور پھر ایک ماہ کی توسیع لینا ہوتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ زیادہ سے زیادہ 60 روز رکھ سکتے ہیں تو اب جولائی ہے، کتنے ماہ ہوگئے ہیں؟ ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ 5 ماہ ہوگئے، ابھی تک ہمیں آفیشلی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
عدالت نے ایف آئی اے افسر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے وقت کیسے آپ رکھ سکتے ہیں، کس قانون کے تحت ابھی تک رکھا ہوا ہے۔ جسٹس راجہ انعام امین نے ریمارکس دیے کہ ایسے کتنے ہی کیسز ہمارے پاس آرہے ہیں، کتنی بار لکھ بھی چکے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی ہے۔
عدالت نے سردار یار محمد رند کی سفری پابندی لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔