سیلاب متاثرین خود کو اکیلا نہ سمجھیں، وفاقی حکومت مکمل بحالی تک انکے ساتھ ہے،امیرمقام
اشاعت کی تاریخ: 5th, September 2025 GMT
وزیرِاعظم کی خصوصی ہدایات پر وفاقی وزیرامیر مقام نے خیبرپختونخوا میں سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ضلع بونیر کے متاثرین میں امدادی چیک تقسیم کیے۔
اس موقع پر وزیراعظم کے معاون خصوصی طلحہٰ برکی، ڈپٹی کمشنر بونیر کاشف قیوم، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر وسیم، اے ڈی وی ریلیف اکرم شاہ، ڈی پی او بونیر سعود خان، صدر مسلم لیگ (ن) ضلع بونیر سالار خان سمیت دیگر اعلیٰ حکام و مسلم لیگ ن ضلع بونیر کی قیادت بھی موجود تھی۔
امیر مقام نے سیلاب متاثرین سے ملاقات کی اور جاں بحق افراد کے ورثا سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے ان میں امدادی رقوم کے چیک تقسیم کیے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف خود سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریلیف اقدامات کی نگرانی کر رہے ہیں۔
امیر مقام نے کہا کہ بونیر میں سیلاب سے جو جانی ومالی نقصانات ہوئے وہ بہت زیادہ ہے اس پر پوری قوم غمگین ہے ۔خیبرپختونخوا کے پانچ اضلاع سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں جس میں بونیر سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کی مکمل ہمدردیاں سیلاب زدگان کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف خود بونیر آئے اور متاثرین سیلاب سے جانی ومالی نقصان پر تعزیت کی اور ان کو بھرپور امداد و تعاون کی یقین دہانی کرائی جس کا عملی سلسلہ آج بھی جاری ہے
انہوں نے کہا کہ ہم فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیر کے بھی شکر گزار ہے کہ وہ بھی خود بونیر آئے اور یہاں کے متاثرین کے ساتھ اظہار ہمدردی کی -پاک فوج نے سیلاب متاثرین کی بھرپور مدد کی-
انہوں نے کہا کہ اس قدرتی سانحے پر نہ سیاست کرتے ہیں اور نہ ہی اس پر کسی کو سیاست کرنا چاہیے
اس قدرتی آفت میں اداروں،نجی تنظیموں اور عام شہریوں نے اپنا حقیقی رول ادا کیا اور متاثرین سیلاب کی مشکلات کو کم کرنے کےلئے اپنا بھرپور تعاون فراہم کیا،
امیر مقام نے کہا کہ ہم اس مشکل گھڑی میں عوام کی خدمت کیلئے نکلے ہیں، یہ کام سیاست سے بالا تر ہے۔ جس دن سے سیلاب آیا میں عوام کی خدمت کیلئے نکلا ہوا ہوں،
امیر مقام نے کہا کہ کے پی میں کلاؤڈ برسٹ کے باعث 350 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے صوابی، شانگلہ، بونیر، سوات، جنوبی وزیرستان، مانسہرہ میں واقعات ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے 2022 میں سیلاب میں گلگت بلتستان، بلوچستان، خیبرپختونخوا، پنجاب اور سندھ کے سیلاب متاثرین کے پاس بذات خود پہنچے اور ان کیساتھ تعزیت کی اور ان کی بھرپور تعاون کی- وزیراعظم موجودہ سیلاب میں بھی متاثرین کے پاس جارہے ہیں اور خود امدادی سرگرمیوں سمیت بحالی کے کاموں کی مانیٹرنگ کررہے ہیں
امیر مقام نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سیلاب آنے کے بعد کہاں کہ فیڈرل حکومت کے دائرہ کار میں تمام وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی اور سڑکیں بحال کریں-
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ این ایچ اے اور ایم ڈی ایم اے صوبائی حکومت کیساتھ سڑکوں اور متاثرین کی امدادی سرگرمیوں میں مدد کریں- سیلاب متاثرین خود کو اکیلا نہ سمجھیں وفاقی حکومت متاثرین سیلاب کی مکمل بحالی تک آپ کے ساتھ ہیں
میر مقام نے کہا کہ نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ سے کہتا ہو کہ سیلاب سے متاثرہ ہر طبقے کے افراد کا ڈیٹا اکٹھا کریں اور حکومت کو پیش کریں، گھر،زراعت،کاروبار،ٹرانسپورٹ ہر نقصان کا ڈیٹا جمع کریں-
امیر مقام نے کہا کہ پنجاب میں سیلاب آنے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اور ان کے وزراء دن رات متاثرین سیلاب کی مدد کررہے ہیں جس پر وہ داد کی مستحق ہے
قدرتی آفات اللہ کی طرف سے آتے ہیں مگر ہم سب کو یہ کوشش کرنی چاہیئے کہ متاثرین کی مشکلات کم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کریں ۔ انجینئر امیر مقام نے کہا کہ 2005 کے زلزلے ، 2010 اور 2022 کے بعد یہ بڑا قدرتی سانحہ ہے۔
امیر مقام نے کہا کہ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ہماری قوم کو کسی چیلنج کا سامنا ہوا — چاہے وہ قدرتی آفات ہوں یا کوئی اور آزمائش — ہم نے ہمیشہ اتحاد اور حوصلے کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا۔
اس سے قبل ڈپٹی کمشنر بونیر نے وفاقی وزیر کو بونیر میں سیلاب سے متعلق ریلیف آپریشن پر بریفنگ دی۔
اس موقع پر وفاقی محکموں این ڈی ایم اے پی ڈی ایم اے سمیت دیگر محکموں کے اعلیٰ حکام اور مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت بھی موجود تھی۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ سیلاب کے بعد وفاقی وزیر نے تمام متاثرہ اضلاع بشمول گلگت بلتستان کا فعال دورہ کیا۔سیلاب متاثرین سے ملاقاتیں جاں بحق افراد کے ورثا سے تعزیت کا اظہار اور متاثرین میں امدادی چیک تقسیم کیے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف انہوں نے کہا کہ وزیراعظم انہوں نے کہا کہ وزیر امیر مقام نے کہا کہ سیلاب متاثرین متاثرین سیلاب اور متاثرین میں سیلاب سیلاب سے کے ساتھ اور ان کے بعد
پڑھیں:
حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔
پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔
پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے، بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے، بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔
مزید :