روس کے یوکرین پر حملے: سرکاری عمارتوں میں آگ لگ گئی،5افراد ہلاک، درجنوں زخمی
اشاعت کی تاریخ: 7th, September 2025 GMT
ماسکو: روس نے یوکرین پر حملے میں اہم سرکاری عمارت کو پہلی بار نشانہ بنایا اس دوران ماں اور بچے سمیت کم از کم 5 افراد ہلاک جب کہ درجنوں زخمی ہوگئے۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق کیف کے میئر وٹالی کلیچکو کا کہنا ہے کہ حملوں میں 20 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں ایک حاملہ خاتون بھی شامل ہے، 7 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا، دیگر کو موقع پر ہی طبی امداد دی گئی۔ شہر میں اب تک دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں ایک خاتون اور اس کا دو ماہ کا بیٹا شامل ہیں، تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
یوکرین کی فضائیہ کا کہنا ہے کہ روس نے رات کے حملے میں 805 ڈرون اور 13 میزائل داغے، ان میں سے 751 کو مار گرایا گیا۔
کیف کی فوجی انتظامیہ کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے شہریوں سے پناہ گاہوں میں رہنے کی اپیل کی اور خبردار کیا ہے کہ روس جان بوجھ کر شہری سہولیات کو نشانہ بنا رہا ہے۔
دوسری جانب کیف کے میئر ویتالئی کلیچکو نے وسطی پیچرِسکی ضلع میں ایک سرکاری عمارت میں آگ لگنے کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ یہ آگ غالباً روسی ڈرون مار گرائے جانے کے بعد لگی۔
روس نے ان حملوں پر تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم اس کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی فورسز نے مختلف روسی علاقوں میں یوکرین کے 69 ڈرونز کو مار گرایا یا روک دیا۔
یوکرین پر رات گئے ہونے والے یہ حملے اس وقت ہوئے ہیں، جب ولادیمیر پیوٹن نے مغرب کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس مشکل وقت میں یوکرین کی مدد نہ کرے۔
علاقائی انتظامیہ کے سربراہ ایوان فیدوروف نے بتایا کہ یوکرین کے دیگر علاقوں میں گزشتہ شام زاپوریزہیا شہر پر روسی حملے میں 17 افراد زخمی ہوئے۔ 16 رہائشی بلاکس، 12 مکانات، ایک کنڈرگارٹن اور کارخانے کو نقصان پہنچا ہے۔
ایوان فیدوروف نے کہا کہ شہر سے باہر نووپاولیووکا گاؤں پر روسی گلائیڈ بم حملے میں ایک خاتون ہلاک ہو گئی جب کہ ایک شخص تاحال لاپتہ ہے، جس کی لاش ڈھونڈنے کی کوششیں جاری ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔