پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) ہمیشہ سے ایک قومی سوچ رکھنے والی جماعت رہی ہے، جس نے نہ کبھی صوبائیت کا کارڈ کھیلا، نہ ہی نہروں یا ڈیم جیسے جذباتی معاملات کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا۔

یہ بات انہوں نے سندھ کے وزیر شرجیل میمن کے حالیہ بیان پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہی، جس میں شرجیل میمن نے ن لیگ اور پنجاب حکومت پر جانبداری اور ناتجربہ کاری کے الزامات لگائے تھے۔

“جسے ناتجربہ کار ٹیم کہا جا رہا ہے، وہ پنجاب میں انقلاب لا چکی ہے”

عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا:”جس ٹیم کو شرجیل میمن ناتجربہ کار کہہ رہے ہیں، اسی ٹیم نے صرف ڈیڑھ سال میں پنجاب میں 80 سے زائد منصوبے مکمل کیے، جو صوبے میں ایک ترقیاتی انقلاب کی نشاندہی ہے۔”

“سندھ کا حال سب کے سامنے ہے”

انہوں نے پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا:”آپ نے 17 سال میں کراچی اور سندھ کو جس حال میں پہنچایا، اس کا رونا عوام آج بھی رو رہے ہیں۔ سیلاب کے بعد ملنے والی بیرونی امداد کے باوجود سندھ میں آج بھی تباہی کے مناظر ہیں۔”

پنجاب کے عوام پیپلز پارٹی کا کردار یاد رکھیں گے

انہوں نے مزید کہا:”پنجاب میں حالیہ سیلاب کے دوران پیپلز پارٹی نے جو کردار ادا کیا، اسے پنجاب کبھی نہیں بھولے گا۔”

  رضوان رضی کی حمایت پر تنازع

یاد رہے کہ یہ سیاسی کشیدگی اُس وقت سامنے آئی جب سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے ن لیگ اور پنجاب حکومت کی جانب سے صحافی رضوان رضی کی حمایت پر چلنے والی مہم کو “افسوسناک” قرار دیا تھا۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: شرجیل میمن

پڑھیں:

وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے

اسلام آباد: وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے مذاکرات نتیجہ خیزنہ ہوسکے۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو گلہ ہے کہ بجٹ پر انہیں اعتماد میں نہیں لیا گیا۔بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کے لیے وزارت خزانہ میں حکومتی ٹیم اور پیپلز پارٹی کے درمیان اجلاس ختم ہوگیا۔اجلاس میں کوئی آئینی ترمیم زیر بحث نہیں۔ این ایف سی میں تبدیلی پر بھی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پیپلزپارٹی کے خدشات دور نہ کیے جاسکے۔ پیپلزپارٹی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہوگا۔اس سے پہلے5 جون کو ہونے والا بجٹ اجلاس مؤخر کردیا گیا تھا،نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔پارلیمانی ذرائع کا کہنا تھا حکومت بجٹ سے پہلے اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے بھی کامران ٹیسوری کی بطور گورنر سندھ تعیناتی کو بجٹ منظوری سے مشروط کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • ناتمام (آخری قسط)
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ