سیلاب سے 18 لاکھ ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ،غذائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
پاکستان میں حالیہ سیلاب نے صرف گھروں، سڑکوں اور انسانی جانوں کا نقصان نہیں کیا بلکہ ملک کی زرعی ریڑھ کی ہڈی کو بھی شدید جھٹکا دیا ۔
پنجاب کے 28 اضلاع میں 18 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر کھڑی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں جس کے نتیجے میں مستقبل قریب میں کئی ضروری اشیائے خوردونوش کی قلت کا خطرہ پیدا ہو گیا ۔
خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں تباہی مچانے کے بعد اب سیلاب پنجاب اور وہاں سے سندھ کی طرف بڑھ رہا ہے اور ہر قدم پر بربادی کی نئی داستان چھوڑتا جا رہا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ تباہ ہونے والی فصلوں میں کپاس، چاول، گنا اور تقریباً تمام سبزیاں شامل ہیں، جبکہ فش فارمز (مچھلی پالنے والے فارم) بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب نے کاشتکاروں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اب ان کے پاس نہ زمین کی فصل بچی ہے، نہ کھاد، نہ بیج، نہ مزدور۔ یہاں تک کہ کئی کسان مزدوری کے لیے دربدر ہو چکے ہیں۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر یہی حالات رہے تو کاشتکار آئندہ سال گندم کاشت کرنے سے انکار کر سکتے ہیں، جس سے ملک میں فوڈ سیکیورٹی کا سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ گندم ہماری بنیادی ضرورت ہے، حکومت کو ابھی سے اس کی ذخیرہ اندوزی پر توجہ دینی چاہیے۔
خالد کھوکھر نے کہاکہ پنجاب حکومت پر کسانوں کا اعتماد تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ “اگر حکومت واقعی کسانوں کے ساتھ مخلص ہے، تو وہ گندم کی خرید و فروخت پر غیر ضروری پابندیاں ختم کرے اور ریٹ کنٹرول جیسے اقدامات سے باز رہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو فوری طور پر بیج، کھاد، ڈیزل اور دیگر زرعی وسائل مفت فراہم کیے جائیں تاکہ وہ دوبارہ اپنی زمین پر کھڑا ہو سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.