پاکستان میں حالیہ سیلاب نے صرف گھروں، سڑکوں اور انسانی جانوں کا نقصان نہیں کیا بلکہ ملک کی زرعی ریڑھ کی ہڈی کو بھی شدید جھٹکا دیا ۔
پنجاب کے 28 اضلاع میں 18 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر کھڑی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں جس کے نتیجے میں مستقبل قریب میں کئی ضروری اشیائے خوردونوش کی قلت کا خطرہ پیدا ہو گیا ۔
خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان میں تباہی مچانے کے بعد اب سیلاب پنجاب اور وہاں سے سندھ کی طرف بڑھ رہا ہے اور ہر قدم پر بربادی کی نئی داستان چھوڑتا جا رہا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ تباہ ہونے والی فصلوں میں کپاس، چاول، گنا اور تقریباً تمام سبزیاں شامل ہیں، جبکہ فش فارمز (مچھلی پالنے والے فارم) بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالد محمود کھوکھر نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیلاب نے کاشتکاروں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا  اب ان کے پاس نہ زمین کی فصل بچی ہے، نہ کھاد، نہ بیج، نہ مزدور۔ یہاں تک کہ کئی کسان مزدوری کے لیے دربدر ہو چکے ہیں۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر یہی حالات رہے تو کاشتکار آئندہ سال گندم کاشت کرنے سے انکار کر سکتے ہیں، جس سے ملک میں فوڈ سیکیورٹی کا سنگین بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھاکہ گندم ہماری بنیادی ضرورت ہے، حکومت کو ابھی سے اس کی ذخیرہ اندوزی پر توجہ دینی چاہیے۔
خالد کھوکھر نے کہاکہ پنجاب حکومت پر کسانوں کا اعتماد تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ “اگر حکومت واقعی کسانوں کے ساتھ مخلص ہے، تو وہ گندم کی خرید و فروخت پر غیر ضروری پابندیاں ختم کرے اور ریٹ کنٹرول جیسے اقدامات سے باز رہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کسانوں کو فوری طور پر بیج، کھاد، ڈیزل اور دیگر زرعی وسائل مفت فراہم کیے جائیں تاکہ وہ دوبارہ اپنی زمین پر کھڑا ہو سکے۔

Post Views: 6.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب

کراچی:

ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔

درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔

درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔
 

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • سونے کی قیمت میں پھر ہوشربا اضافہ
  • ملک بھر میں گدھوں، گھوڑوں، خچروں کی تعداد میں اضافہ
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا