بحرین کے وزیر داخلہ اسلام آباد پہنچ گئے، اعلی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے
اشاعت کی تاریخ: 9th, September 2025 GMT
بحرین کے وزیرداخلہ لیفٹیننٹ جنرل راشد بن عبد اللہ الخلیفہ 3 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بحرین کا گولڈن ویزا کن پاکستانیوں کے لیے فائدہ مند ہو سکتا ہے؟
ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق منگل کے روز بحرین کے وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل راشد بن عبد اللہ الخلیفہ پاکستانی ہم منصب محسن نقوی کی دعوت پر 3 روزہ دورے پر اسلام آباد پہنچے، اسلام آباد آمد پر وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے مہمان وزیر کا استقبال کیا۔ اس موقع پر اسلام آباد پولیس کے چاق و چوبند دستے نے سلامی بھی پیش کی۔
بحرین کے وزیر داخلہ نے اسلام آباد میں پاکستان مونومنٹ کا دورہ کیا اور یادگار شہدا پر حاضری دی، پھول رکھے اور فاتحہ خوانی کی۔
یہ بھی پڑھیں: آرمی چیف کا دورہ بحرین، بادشاہ سمیت اہم سول و فوجی شخصیات سے ملاقاتیں
دورے کے دوران بحرین کے وزیر داخلہ لیفٹیننٹ جنرل راشد بن عبد اللہ الخلیفہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔
ترجمان وزارت داخلہ کے مطابق اس دورے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان انسانی سمگلنگ، انسدادِ منشیات، سیکیورٹی اور انسدادِ دہشتگردی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بحرین پاکستان پاکستان مونومنٹ طلال چوہدری لیفٹیننٹ جنرل راشد بن عبد اللہ الخلیفہ محسن نقوی وزیرداخلہ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان مونومنٹ طلال چوہدری محسن نقوی وزیرداخلہ بحرین کے وزیر داخلہ اسلام آباد
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔