پاکستانی میڈیکل یونیورسٹیز میں ڈاکٹرز اور نرسنگ کے کورس میں اے آئی بھی شامل
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
پاکستان کی میڈیکل یونیورسٹیز میں ایم بی بی ایس اور نرسنگ کے نصاب میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو شامل کرلیا گیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ایم بی بی ایس اور نرسنگ کے نصاب میں اے آئی کا پانچ سالہ کورس تیار کیا گیا ہے جس میں طلبا کو طبی تعلیم اور پریکٹس میں اے آئی کے اخلاقی اور عملی استعمال سے روشناس کرایا جائے گا اور یہ نصاب مصنوعی ذہانت سے لیس ہے۔
اے آئی کی مدد سے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف مستقبل میں مریضوں کا علاج کر سکیں گے جبکہ پہلے ہی تشخیص، سرجری اور مریضوں کی نگہداشت میں اے آئی پر مبنی ٹولز استعمال ہورہے ہیں۔
اس کے علاوہ فیملی میڈیسن ڈیپارٹمنٹ میں ہامی پروگرام اور ریٹینا امیجز کی تشریح کے پائلٹ منصوبے بھی جاری ہیں۔
اس کے ساتھ ہی طلبہ کے لیے ڈیٹا اینالٹکس ورکشاپس اور ٹیلی کنسلٹیشنز میں شمولیت کے مواقع بھی فراہم کیے گئے ہیں تاکہ وہ ڈیجیٹل ہیلتھ سے ہم آہنگ رہ سکیں۔
سرجری کے میدان میں بھی اے آئی اور روبوٹک سسٹمز بھی متعارف کروائے گئے ہیں جن کے ذریعے پیچیدہ پیٹ، شرونی، پروسٹیٹ، ریکٹل اور ہیپاٹو بلیری آپریشنز ممکن ہو رہے ہیں۔
اس حوالے سے آغا خان یونیورسٹی کے میڈیکل کالج کے ڈین پروفیسر کریم دامجی نے ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ مصنوعی ذہانت کو میڈیکل اور نرسنگ کی تعلیم میں مرحلہ وار شامل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اے آئی کا ایک جامع کورس تیار کرلیا گیا ہے جو مستقبل قریب میں پانچ سالہ ایم بی بی ایس پروگرام میں بطور مضمون پڑھایا جائے گا، اس کورس کا مقصد طلبہ کو طب میں مصنوعی ذہانت کے اخلاقی استعمال سے آگاہ کرنا اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔
پروفیسر دامجی کے مطابق اس نصاب کو وقتاً فوقتاً اپ ڈیٹ کیا جاتا رہے گا تاکہ یہ نئی ایجادات اور پیش رفت سے ہم آہنگ رہے۔ اس مقصد کے لیے یونیورسٹی کے کوالٹی، ٹیچنگ اینڈ لرننگ نیٹ ورک نے فیکلٹی کے لیے رہنما اصول بھی وضع کیے ہیں تاکہ تدریس اور امتحانات میں اے آئی کے اخلاقی استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔
انہوں نے بتایا کہ ایم بی بی ایس اور نرسنگ کا نصاب ہر دو سے تین سال بعد داخلی طور پر جبکہ ہر پانچ سال بعد بیرونی ماہرین کے ذریعے ریویو کیا جاتا ہے۔ نصاب میں چھوٹی تبدیلیوں کا فیصلہ ایسوسی ایٹ ڈین اور کریکولم کمیٹی کرتی ہے، جبکہ بڑے فیصلے اور نئے کورسز شامل کرنے کا معاملہ اکیڈمک کونسل دیکھتی ہے جس کی سربراہی پرووسٹ کرتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایم بی بی ایس مصنوعی ذہانت اور نرسنگ اے ا ئی اے آئی میں اے
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔