امریکا اور برطانیہ کے ’جوہری معاہدے‘ میں کیا کچھ شامل ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اربوں پاؤنڈ مالیت کا معاہدہ کیا ہے جس کے تحت دونوں ممالک میں جدید جوہری توانائی کو فروغ دیا جائے گا۔
الجزیرہ کے مطابق یہ معاہدہ "اٹلانٹک پارٹنرشپ فار ایڈوانسڈ نیوکلیئر انرجی" کے نام سے جانا جا رہا ہے جس کا مقصد نئے ری ایکٹرز کی تعمیر کو تیز کرنا اور توانائی کے بڑے صارف شعبوں، خصوصاً مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز، کو کم کاربن اور قابلِ بھروسہ بجلی فراہم کرنا ہے۔
اس معاہدے کے تحت برطانیہ کی سب سے بڑی توانائی کمپنی ’سینٹریکا‘ کے ساتھ امریکی ادارے ایکس انرجی مل کر شمال مشرقی انگلینڈ کے شہر ہارٹلی پول میں 12 جدید ماڈیولر ری ایکٹرز تعمیر کرے گی۔
یہ منصوبہ 15 لاکھ گھروں کو بجلی فراہم کرنے اور 2,500 ملازمتیں پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ امریکی کمپنی ہولٹیک، فرانسیسی ادارہ ای ڈی ایف انرجی اور برطانوی سرمایہ کاری فرم ٹریٹیکس مشترکہ طور پر نوٹنگھم شائر میں چھوٹے ماڈیولر ری ایکٹرز (SMRs) سے چلنے والے ڈیٹا سینٹرز تعمیر کریں گے۔
اس منصوبے کی مالیت تقریباً 11 ارب پاؤنڈ (15 ارب ڈالر) بتائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، برطانوی رولز رائس اور امریکی بی ڈبلیو ایکس ٹی کے درمیان جاری تعاون کو بھی مزید وسعت دی جائے گی۔
برطانیہ کے پرانے جوہری پلانٹس فی الحال برطانیہ میں 8 جوہری پاور اسٹیشنز موجود ہیں جن میں سے 5 بجلی پیدا کر رہے ہیں جب کہ 3 بند ہوچکے ہیں اور ڈی کمیشننگ کے مرحلے میں ہیں۔
یہ زیادہ تر 1960 اور 1980 کی دہائی میں تعمیر ہوئے تھے اور اب اپنی مدتِ کار کے اختتامی مرحلے پر ہیں۔ موجودہ توانائی صورتحال برطانیہ اپنی بجلی کا تقریباً 15 فیصد جوہری توانائی سے حاصل کرتا ہے جو 1990 کی دہائی کے وسط میں 25 فیصد سے زائد تھی۔
خیال رہے کہ 2024 میں پہلی مرتبہ ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی (ونڈ پاور) نے ملک کا سب سے بڑا بجلی کا ذریعہ بن کر گیس سے بجلی پیدا کرنے کے عمل کو پیچھے چھوڑ دیا تھا جو کُل بجلی کا تقریباً 30 فیصد ہے۔
امریکا کے لیے یہ معاہدہ نہ صرف امریکی جوہری ٹیکنالوجی کی برآمدات کو بڑھائے گا بلکہ برطانوی اور امریکی کمپنیوں کے درمیان تجارتی تعلقات کو بھی مضبوط کرے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پورے پروگرام سے 40 ارب پاؤنڈ (54 ارب ڈالر) کی معاشی قدر پیدا ہونے کا امکان ہے۔
دنیا بھر میں ایڈوانسڈ نیوکلیئر ٹیکنالوجی کی مانگ 2050 تک تیزی سے بڑھنے کی توقع ہے۔
امریکا میں بھی جوہری توانائی کی طلب 100 گیگا واٹ سے بڑھ کر 400 گیگا واٹ تک پہنچنے کا اندازہ لگایا جا رہا ہے جس کے لیے صدر ٹرمپ نے ملک کی جوہری پیداواری صلاحیت کو چار گنا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
عالمی اوسط کے مطابق ایک جوہری ری ایکٹر کی تعمیر میں تقریباً 7 سال لگتے ہیں تاہم چین میں یہ مدت پانچ سے چھ سال ہے جبکہ جاپان نے ماضی میں کچھ ری ایکٹرز صرف تین سے چار سال میں مکمل کیے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ری ایکٹرز
پڑھیں:
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔
مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔
مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم