اسرائیلی محاصرہ توڑنے کیلیے عالمی صمود فلوٹیلا کی 13ویں کشتی تیونس سے روانہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تیونس: غزہ کی 18 سالہ اسرائیلی ناکہ بندی توڑنے کے لیے گلوبل صمود فلوٹیلا کی کوششیں تیز ہوگئیں، تیونس کے ساحلی شہر گمراتھ کی بندرگاہ سے فلوٹیلا کی 13ویں کشتی غزہ کی جانب روانہ ہوگئی، اس موقع پر درجنوں شہریوں نے جمع ہو کر فلسطین کے حق میں نعرے لگائے، جن میں غزہ، وقار کی علامت ہے،ہم اپنی جان و خون قربان کریں گے فلسطین کے لیے اور فلسطین آزاد ہو، صیہونی باہر جائیں” جیسے نعرے شامل تھے۔
فلوٹیلا کی رکن جواہر شنہ نے بتایا کہ گزشتہ روز فلوٹیلا کی 12 کشتیاں تیونس سے روانہ ہوچکی تھیں جبکہ ایک اور کشتی شام کے وقت روانہ ہوئی۔
گلوبل صمود فلوٹیلا کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یونان کے جزیرے سیروس سے بھی چھ کشتیاں 26 یونانیوں اور 20 بین الاقوامی کارکنوں کے ہمراہ غزہ کی جانب روانہ ہوئی ہیں جو تیونس سے آنے والے فلیٹ کے ساتھ ملیں گی۔
بین الاقوامی کمیٹی برائے محاصرہ توڑنے کے مطابق تمام کشتیاں مالٹا کے قریب اکٹھی ہوں گی اور پھر غزہ کی ساحلی پٹی کی طرف ایک ساتھ بڑھیں گی، یہ قافلہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا ہے جس کا مقصد نہ صرف اسرائیلی ناکہ بندی کو چیلنج کرنا ہے بلکہ غزہ کے عوام کے لیے امدادی سامان بھی پہنچانا ہے، جہاں بدترین قحط، بھوک اور بیماریوں نے وبائی صورتحال پیدا کردی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی فوج اکتوبر 2023 سے غزہ پر مسلسل بمباری کر رہی ہے جس میں اب تک 65 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے، عالمی اداروں کے مطابق اسرائیلی حملوں اور مسلسل محاصرے نے غزہ کو ناقابلِ رہائش بنا دیا ہے اور انسانی بحران خوفناک شکل اختیار کر گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: فلوٹیلا کی غزہ کی
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔