Express News:
2026-06-03@07:38:45 GMT

پاک، سعودی مشترکہ دفاع، ذمے داری بڑھ گئی ہے

اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT

پاکستان اور سعودی، عرب مشترکہ دفاعی معاہدے میں بندھ گئے ہیں۔ اسلامی دنیا کے عالمی امور میں اب تک کے رویے کے تناظر میں یہ پیش رفت غیر متوقع ہے۔

اس سلسلے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگوں اور باہمی چپقلش کی تاریخ رکھنے والے عرب ممالک کی حکومتوں اور تھنک ٹینکس نے کبھی ایسی صورت حال پیدا ہو جانے کے امکان پر غور نہ کیا ہو گا کہ اگر اسرائیل نے فلسطین میں ظلم و ستم اور مارا ماری سے آگے بڑھتے ہوئے عرب ملکوں میں سے کسی ایک کو نشانہ بنایا تو ایسی صورت میں سرمایہ کاری اور عالمی امور میں عرب ممالک کا سب سے قریبی ساجھے دار امریکا کیا رویہ اختیار کرے گا؟ عالمی سیاست کے تناظر میں تمام ریاستیں ایسے امکانات کا بھی جائزہ لیتی ہیں جن کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ہوتا۔ پ

اکستان کی نئی نسل میں کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہو گی کہ ہمارے خطے میں برصغیر کی تقسیم کے بعد چین اور بھارت آپس میں نہایت قریب تھے۔ آزادی کے ابتدائی سالوں میں پنڈت نہرو کے دور میں یہاں ’ہند‘ چینی بھائی بھائی‘ کے نعرے سننے کو ملتے تھے۔

پاکستان کے پہلے فوجی حکمران فیلڈ مارشل ایوب خان نے بھارتی وزیراعظم پنڈت نہرو کو پاک بھارت مشترکہ دفاع کی پیشکش کی تھی، جس کے جواب میں پنڈت نہرو نے پوچھا تھا۔ ’’ہمارا یہ عسکری اتحاد کس کے خلاف ہو گا؟ یوں یہ معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔ بعد میں جب پاکستان نے 1963میں شکسم ویلی ( Shaksgam Valley)کا وہ علاقہ چین کے حوالے کر دیا جس پر چین کا دعویٰ تھا تو صورت حال  یکسر تبدیل ہو گئی۔ چین اس سمیت بہت بڑے علاقے پر دعویٰ کرتا ہے جس کا زیادہ تر حصہ بھارت کی چین سے مُتصل سرحد پر واقع ہے۔

اس کے بعد بھی ایسے ادوار آئے ہیں جب چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں وقتی سرد مہری پیدا ہوئی لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ پاکستان اور چین کو عالمی سیاست میں اکٹھے دیکھا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں ریاستوں کے ریاستوں کے ساتھ تعلقات باہمی مفادات کے توازن کے ساتھ پنپتے اور ترقی کرتے ہیں۔ اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ یہ امکان کبھی زیر غور آیا ہی نہیں ہو گا کہ فلسطین اسرائیل تصادم سے ہٹ کر اگر اسرائیل کا ٹکراؤ کسی عرب ملک کے ساتھ ہوا تو امریکا کس کا ساتھ دے گا۔ یقیناً اس کا جواب یہی ہے کہ امریکا نے اسرائیل کو عربوں کے رحم و کرم پر نہ کبھی چھوڑا اور نہیں ہی کبھی چھوڑے گا۔

اب جب اسرائیل نے قطر کو نشانہ بنایا ہے تو ایک طرح سے یوں کہنا چاہیے کہ وہ نازک سا توازن درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے جسے عرب ممالک نے امریکا کو غیر معمولی سہولتیں اور فائدے پہنچا کر قائم کر رکھا تھا۔ وہ عرب اور افریقی ریاستیں جو کبھی اسرائیل کے خلاف متحد ہو کر جنگیں کرتی رہی ہیں، اب کھل کر فلسطین کی حمایت کرنے سے بھی ہاتھ کھینچ چکی تھیں۔ خلیجی ریاستیں امریکا میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہیں جب کہ امریکا اور دیگر مغربی ممالک ان ملکوں کے سب سے بڑے تجارتی ساتھی ہیں۔

موجودہ صورت حال کے حوالے سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہی ہے کہ عرب ملکوں کو اپنے انتہائی فرمانبرداری پر مبنی رویے اور امریکی یقین دہانیوں کی بنیاد پر اس بات کا پختہ یقین تھا کہ کچھ بھی ہو جائے اسرائیل عرب ملکوں کے خلاف کوئی عملی قدم کبھی نہیں اٹھائے گا، کیونکہ عرب ملک اسرائیلی بربریت کا نشانہ بننے والے فلسطینیوں کو اسرائیل کی اجازت سے خوراک اور ادویات فراہم کرنے سے بڑھ کر کچھ کرنے سے پوری طرح سے ہاتھ اٹھا چکے تھے۔ لیکن نہ صرف یہ کہ یہ انہونی رونما ہو گئی بلکہ اسرائیل نے یہ بھی بتا دیا کہ قطر پر حملہ کی پیشگی اطلاع امریکا کو دے دی گئی تھی۔

مزے کی بات یہ ہے کہ جس طرح کی ناگوار صورت حال اور بدمزگی کا سامنا سعودی عرب کو قطر پر حالیہ ہوائی حملوں اور امریکی رویے کے حوالے سے کرنا پڑ رہا ہے اس سے ملتی جلتی صورت حال سے پاکستان کو بھی گزرنا پڑا ہے۔ پاکستان ماضی میں امریکا کے سب سے قریبی اتحادیوں میں شامل رہا ہے۔ پاکستان امریکی دفاعی معاہدوں سیٹو اور سینٹو کا حصہ رہا اور بعد میں افغان جہاد میں اسے امریکا کا سب سے قریبی Non Nato Ally (غیر نیٹو اتحادی) ہونے کا ’’اعزاز‘‘ بھی حاصل رہا، لیکن اس ساری قربت کا نتیجہ کبھی پاکستان کے حق میں نہیں آیا۔

سرد جنگ کا تمام عرصہ پاکستان نے امریکا کا بھرپور ساتھ دیا۔ افغانستان میں سوویت یونین کی شکست میں کلیدی کردار ادا کیا، لیکن حاصل حصول کچھ نہیں، اُلٹا اس ساری سرگرمی نے پاکستان کو کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی بھٹی میں جھونک رکھا ہے۔ ادھر بالکل سعودی عرب سے متصل قطر پر اسرائیلی حملوں کے بعد سعودی عرب بھی اسی طرح کی ناگوار صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔

حالیہ امریکی رویے نے سعودی عرب کی آنکھیں کھول دیں کہ دفاع کے لیے امریکا پر انحصار کا مطلب اسرائیل سے تحفظ ہر گز نہیں، تو اگر تحفظ جامع نہیں تو پھر وہ کیا تحفظ ہے۔ امریکا کا یہ رویہ کوئی نیا نہیں بلکہ اس کی تاریخ بہت پرانی اور مثالیں حیرت انگیز ہیں۔ مثال کے طور پر امریکا پاکستان کو کوئی ’اسٹیٹ آف دی آرٹ‘ ہتھیار بیچتے ہوئے یہ پابندی لگا دے گا کہ اس کا استعمال بھارت کے خلاف نہیں کیا جائے گا۔

انڈیا کے ساتھ حالیہ برسوں میں ہونے والی فضائی جھڑپوں میں ایف16 طیاروں کے حوالے سے ایسی پابندیوں کے دعوے سننے میں آئے تھے۔ لہٰذا سعودی عرب نے یہ فیصلہ کرنے میں دیر نہیں کی کہ اگر سعودی ریاست کو تحفظ صرف ان ملکوں سے فراہم کیا جائے گا جنھیں امریکا پسند نہیں کرتا تو پھر ایسے لولے لنگڑے تحفظ سے بہتر ہے کہ اس سے کم تر درجے کا مکمل تحفظ حاصل کرلیا جائے۔

اس حوالے سے چند اور باتیں بھی قابل غور ہیں۔ چین کے ساتھ انتہائی قریبی عسکری اور سیاسی تعلقات کے باوجود مشترکہ دفاع کا کوئی معاہدہ پاکستان اور چین کے درمیان موجود نہیں، حالانکہ خطے میں بھارت کی شکل میں ایک مشترکہ دشمن بھی موجود ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ابھی حال ہی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جو مختصر تصادم ہوا، اس کے نتائج نے بھی پاک سعودی معاہدے میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔

تاریخ انسانی میں یہ بات اپنی حقیقت کو منواتی رہی ہے کہ جب دنیا میں تبدیلی کی ہوا چلتی ہے تو واقعات اس تبدیلی کے حق میں کچھ اس انداز میں رونما ہونے لگتے ہیں جیسے کوئی برتر قوت ایک منصوبے کے تحت انھیں برپا کر رہی ہے، اور ہم مسلمان تو اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ تبدیلیاں رب تعالی کی حکمت کا مظہر ہوتی ہیں۔ پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی ناقابل یقین یک طرفہ شکست نے دنیا میں طاقت کے ایک نئے توازن کو جنم دے دیا ہے جس کے زیر اثر پاکستان کے بارے میں عالمی سطح پر تاثر بھی یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔

ریاستوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع محض مستقبل میں بہتر حالات کی نوید نہیں لاتے، یہ احساس ذمے داری میں اضافہ بھی کرتے ہیں۔ بوجھ بڑھ جاتا ہے، توقعات بڑھ جاتی ہیں، اور پھر لازم ہو جاتا ہے کہ اپنی کمزوریوں کو طاقت میں بدلا جائے۔ پاکستان کے موجودہ اندرونی حالات پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری ہیں۔ انھیں درست کرنے کی ضرورت جس قدر بھارت سے جنگ سے پہلے تھی، آج سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد اس سے کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ اپنے اندرونی معاملات کو درست کرنے کے لیے ایک لمحے کی بھی دیر نہیں کرنی چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مشترکہ دفاع پاکستان کے صورت حال کے حوالے حوالے سے یہ ہے کہ کے ساتھ کے خلاف کہ دفاع کے بعد

پڑھیں:

ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟

ایران امریکا مذاکرات میں دُنیا پاکستان کے ثالثی کردار کی تعریف کر رہی ہے۔ یورپی یونین کی نائب صدر کاجا کالاس نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کی زبردست تعریف کی۔

اس سے قبل پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے دورہ واشنگٹن کے دوران جب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کی تو انہوں نے بھی پاکستان کے کردار کی کھل کر تعریف کی۔

لیکن اِس سب کے باوجود امریکا ایران تنازعے کا پائیدار حل نظر نہیں آ رہا جس کی بُنیادی وجہ دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کا فقدان اور اسرائیل کی جانب سے غزہ اور اب لبنان میں نہ رُکنے والی جنگی جارحیت ہے، حالاں کہ ایرانی وزیرِخارجہ عباس عراقچی نے اس بات کو کھل کر دُہرایا کہ جنگ بندی معاہدے میں لبنان بھی شامل ہے۔

گزشتہ 10 روز میں کیا پیش رفت ہوئی؟

مختلف سفارتی ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان متعدد بالواسطہ رابطے اور مذاکرات ہوئے جن کے بنیادی نکات میں جنگ بندی پر عملدرآمد، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کا تحفظ، پابندیوں میں ممکنہ نرمی، منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق اختلافات کو دور کرنا شامل تھا۔

مغربی میڈیا کے مطابق فریقین ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے تھے تاہم ایرانی حُکام ایسی خبروں کی تردید کر رہے ہیں۔ ایرانی حُکام اپنا مؤقف کھل کر بیان کر رہے ہیں کہ کسی بھی حتمی معاہدے کے اعلان سے قبل عملی اقدامات اور قابلِ تصدیق ضمانتیں ضروری ہیں، یہی وجہ ہے کہ مذاکرات جاری ہونے کے باوجود حتمی پیش رفت کا اعلان ابھی تک سامنے نہیں آیا۔

لبنان پر اسرائیلی جارحیت اور ایرانی وزیرِ خارجہ کا بیان

تازہ ترین اور شاید سب سے اہم پیش رفت ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے اس بیان کی صورت میں سامنے آئی جس میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی کسی بھی جنگ بندی کا اطلاق پورے خطے پر ہوگا۔

عباس عراقچی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان سیز فائر کا اطلاق ’تمام محاذوں پر مکمل جنگ بندی‘ سے تعبیر ہے، جس میں لبنان بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی ایک محاذ پر جنگ بندی کی خلاف ورزی ہوئی تو اسے تمام محاذوں پر جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا اور اس کے نتائج کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوگی‘۔

پاکستان کی تازہ سفارتکاری کوششیں

گزشتہ 10 روز کے دوران پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے  تہران کے دورے، ایرانی قیادت سے ملاقاتیں اور پاکستانی حکام کی مسلسل رابطہ کاری نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اسلام آباد تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک اہم سفارتی چینل کے طور پر کام کر رہا ہے۔

اسی دوران پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورہ تہران نے سفارتی حلقوں کی خصوصی توجہ حاصل کی۔ متعدد مبصرین کے مطابق پاکستان صرف پیغامات منتقل نہیں کر رہا بلکہ اعتماد سازی اور مذاکراتی عمل کو برقرار رکھنے میں بھی کردار ادا کر رہا ہے۔

واشنگٹن میں اسحاق ڈار اور مارکو روبیو کی ملاقات

پاکستان کی سفارت کاری کی اہمیت اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں ایران، امریکا مذاکرات، علاقائی سلامتی، آبنائے ہرمز اور پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

امریکی قیادت کی جانب سے پاکستان کے کردار کو سراہا جانا اس بات کا اشارہ تھا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو ایک مؤثر رابطہ کار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔

یورپی یونین کی غیر معمولی تائید

یکم جون 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے 8 ویں پاکستان، یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ نے پاکستان کی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دی۔

اجلاس کی صدارت پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کاجا کلاس نے مشترکہ  طور پر کی جس کے بعد جاری مشترکہ اعلامیے کا سب سے اہم پہلو یہ تھا کہ کاجا کالاس نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی پاکستانی کوششوں کو تعمیری اور بامعنی قرار دیا۔

اعلامیے میں خاص طور پر امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی اور اسلام آباد مذاکرات کا ذکر کیا گیا ہے۔ یورپی یونین نے نہ صرف پاکستان کے کردار کو سراہا بلکہ آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ بحری آمدورفت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

یہ ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی ثالثی کو زیادہ تر علاقائی تناظر میں دیکھا جا رہا تھا، جبکہ اب یورپی یونین بھی اسے باضابطہ طور پر تسلیم کر رہی ہے۔

’آبنائے ہرمز ‘ مذاکرات کا اصل مرکز

موجودہ بحران میں ’آبنائے ہرمز‘ صرف ایک بحری گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا مرکزی نقطہ بن چکی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کو توانائی سپلائی کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی لیے ایران، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان سب اس بات پر متفق دکھائی دیتے ہیں کہ ’آبنائے ہرمز‘ میں کشیدگی کم کرنا اور محفوظ جہاز رانی کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

اگرچہ جنگ بندی برقرار ہے، سفارتی رابطے بھی جاری ہیں لیکن اختلافی مسائل اب بھی باقی ہیں۔تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ ’ مذاکرات ٹوٹے نہیں بلکہ آگے بڑھے ہیں‘۔

امریکا، ایران، پاکستان اور یورپی یونین سب سفارتی راستے کو زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آنے والے ہفتوں میں کوئی عبوری معاہدہ، توسیع شدہ جنگ بندی یا وسیع علاقائی سلامتی فریم ورک وجود میں آتا ہے تو پاکستان کو صرف ایک سہولت کار نہیں بلکہ اس پورے سفارتی عمل کے اہم معماروں میں شمار کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیل امریکا ایران پاکستان تہران سفارت کاری کاجا کالاس مذاکرات واشنگٹن یورپی یونین

متعلقہ مضامین

  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے