Express News:
2026-06-03@04:46:26 GMT

پاک، سعودی مشترکہ دفاع، ذمے داری بڑھ گئی ہے

اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT

پاکستان اور سعودی، عرب مشترکہ دفاعی معاہدے میں بندھ گئے ہیں۔ اسلامی دنیا کے عالمی امور میں اب تک کے رویے کے تناظر میں یہ پیش رفت غیر متوقع ہے۔

اس سلسلے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگوں اور باہمی چپقلش کی تاریخ رکھنے والے عرب ممالک کی حکومتوں اور تھنک ٹینکس نے کبھی ایسی صورت حال پیدا ہو جانے کے امکان پر غور نہ کیا ہو گا کہ اگر اسرائیل نے فلسطین میں ظلم و ستم اور مارا ماری سے آگے بڑھتے ہوئے عرب ملکوں میں سے کسی ایک کو نشانہ بنایا تو ایسی صورت میں سرمایہ کاری اور عالمی امور میں عرب ممالک کا سب سے قریبی ساجھے دار امریکا کیا رویہ اختیار کرے گا؟ عالمی سیاست کے تناظر میں تمام ریاستیں ایسے امکانات کا بھی جائزہ لیتی ہیں جن کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ہوتا۔ پ

اکستان کی نئی نسل میں کم لوگوں کو یہ بات معلوم ہو گی کہ ہمارے خطے میں برصغیر کی تقسیم کے بعد چین اور بھارت آپس میں نہایت قریب تھے۔ آزادی کے ابتدائی سالوں میں پنڈت نہرو کے دور میں یہاں ’ہند‘ چینی بھائی بھائی‘ کے نعرے سننے کو ملتے تھے۔

پاکستان کے پہلے فوجی حکمران فیلڈ مارشل ایوب خان نے بھارتی وزیراعظم پنڈت نہرو کو پاک بھارت مشترکہ دفاع کی پیشکش کی تھی، جس کے جواب میں پنڈت نہرو نے پوچھا تھا۔ ’’ہمارا یہ عسکری اتحاد کس کے خلاف ہو گا؟ یوں یہ معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔ بعد میں جب پاکستان نے 1963میں شکسم ویلی ( Shaksgam Valley)کا وہ علاقہ چین کے حوالے کر دیا جس پر چین کا دعویٰ تھا تو صورت حال  یکسر تبدیل ہو گئی۔ چین اس سمیت بہت بڑے علاقے پر دعویٰ کرتا ہے جس کا زیادہ تر حصہ بھارت کی چین سے مُتصل سرحد پر واقع ہے۔

اس کے بعد بھی ایسے ادوار آئے ہیں جب چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں وقتی سرد مہری پیدا ہوئی لیکن آج صورت حال یہ ہے کہ پاکستان اور چین کو عالمی سیاست میں اکٹھے دیکھا جاتا ہے۔ دنیا بھر میں ریاستوں کے ریاستوں کے ساتھ تعلقات باہمی مفادات کے توازن کے ساتھ پنپتے اور ترقی کرتے ہیں۔ اگر کوئی یہ دعویٰ کرے کہ یہ امکان کبھی زیر غور آیا ہی نہیں ہو گا کہ فلسطین اسرائیل تصادم سے ہٹ کر اگر اسرائیل کا ٹکراؤ کسی عرب ملک کے ساتھ ہوا تو امریکا کس کا ساتھ دے گا۔ یقیناً اس کا جواب یہی ہے کہ امریکا نے اسرائیل کو عربوں کے رحم و کرم پر نہ کبھی چھوڑا اور نہیں ہی کبھی چھوڑے گا۔

اب جب اسرائیل نے قطر کو نشانہ بنایا ہے تو ایک طرح سے یوں کہنا چاہیے کہ وہ نازک سا توازن درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے جسے عرب ممالک نے امریکا کو غیر معمولی سہولتیں اور فائدے پہنچا کر قائم کر رکھا تھا۔ وہ عرب اور افریقی ریاستیں جو کبھی اسرائیل کے خلاف متحد ہو کر جنگیں کرتی رہی ہیں، اب کھل کر فلسطین کی حمایت کرنے سے بھی ہاتھ کھینچ چکی تھیں۔ خلیجی ریاستیں امریکا میں کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہیں جب کہ امریکا اور دیگر مغربی ممالک ان ملکوں کے سب سے بڑے تجارتی ساتھی ہیں۔

موجودہ صورت حال کے حوالے سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہی ہے کہ عرب ملکوں کو اپنے انتہائی فرمانبرداری پر مبنی رویے اور امریکی یقین دہانیوں کی بنیاد پر اس بات کا پختہ یقین تھا کہ کچھ بھی ہو جائے اسرائیل عرب ملکوں کے خلاف کوئی عملی قدم کبھی نہیں اٹھائے گا، کیونکہ عرب ملک اسرائیلی بربریت کا نشانہ بننے والے فلسطینیوں کو اسرائیل کی اجازت سے خوراک اور ادویات فراہم کرنے سے بڑھ کر کچھ کرنے سے پوری طرح سے ہاتھ اٹھا چکے تھے۔ لیکن نہ صرف یہ کہ یہ انہونی رونما ہو گئی بلکہ اسرائیل نے یہ بھی بتا دیا کہ قطر پر حملہ کی پیشگی اطلاع امریکا کو دے دی گئی تھی۔

مزے کی بات یہ ہے کہ جس طرح کی ناگوار صورت حال اور بدمزگی کا سامنا سعودی عرب کو قطر پر حالیہ ہوائی حملوں اور امریکی رویے کے حوالے سے کرنا پڑ رہا ہے اس سے ملتی جلتی صورت حال سے پاکستان کو بھی گزرنا پڑا ہے۔ پاکستان ماضی میں امریکا کے سب سے قریبی اتحادیوں میں شامل رہا ہے۔ پاکستان امریکی دفاعی معاہدوں سیٹو اور سینٹو کا حصہ رہا اور بعد میں افغان جہاد میں اسے امریکا کا سب سے قریبی Non Nato Ally (غیر نیٹو اتحادی) ہونے کا ’’اعزاز‘‘ بھی حاصل رہا، لیکن اس ساری قربت کا نتیجہ کبھی پاکستان کے حق میں نہیں آیا۔

سرد جنگ کا تمام عرصہ پاکستان نے امریکا کا بھرپور ساتھ دیا۔ افغانستان میں سوویت یونین کی شکست میں کلیدی کردار ادا کیا، لیکن حاصل حصول کچھ نہیں، اُلٹا اس ساری سرگرمی نے پاکستان کو کئی دہائیوں سے دہشت گردی کی بھٹی میں جھونک رکھا ہے۔ ادھر بالکل سعودی عرب سے متصل قطر پر اسرائیلی حملوں کے بعد سعودی عرب بھی اسی طرح کی ناگوار صورتحال کا سامنا کر رہا ہے۔

حالیہ امریکی رویے نے سعودی عرب کی آنکھیں کھول دیں کہ دفاع کے لیے امریکا پر انحصار کا مطلب اسرائیل سے تحفظ ہر گز نہیں، تو اگر تحفظ جامع نہیں تو پھر وہ کیا تحفظ ہے۔ امریکا کا یہ رویہ کوئی نیا نہیں بلکہ اس کی تاریخ بہت پرانی اور مثالیں حیرت انگیز ہیں۔ مثال کے طور پر امریکا پاکستان کو کوئی ’اسٹیٹ آف دی آرٹ‘ ہتھیار بیچتے ہوئے یہ پابندی لگا دے گا کہ اس کا استعمال بھارت کے خلاف نہیں کیا جائے گا۔

انڈیا کے ساتھ حالیہ برسوں میں ہونے والی فضائی جھڑپوں میں ایف16 طیاروں کے حوالے سے ایسی پابندیوں کے دعوے سننے میں آئے تھے۔ لہٰذا سعودی عرب نے یہ فیصلہ کرنے میں دیر نہیں کی کہ اگر سعودی ریاست کو تحفظ صرف ان ملکوں سے فراہم کیا جائے گا جنھیں امریکا پسند نہیں کرتا تو پھر ایسے لولے لنگڑے تحفظ سے بہتر ہے کہ اس سے کم تر درجے کا مکمل تحفظ حاصل کرلیا جائے۔

اس حوالے سے چند اور باتیں بھی قابل غور ہیں۔ چین کے ساتھ انتہائی قریبی عسکری اور سیاسی تعلقات کے باوجود مشترکہ دفاع کا کوئی معاہدہ پاکستان اور چین کے درمیان موجود نہیں، حالانکہ خطے میں بھارت کی شکل میں ایک مشترکہ دشمن بھی موجود ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ابھی حال ہی میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جو مختصر تصادم ہوا، اس کے نتائج نے بھی پاک سعودی معاہدے میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔

تاریخ انسانی میں یہ بات اپنی حقیقت کو منواتی رہی ہے کہ جب دنیا میں تبدیلی کی ہوا چلتی ہے تو واقعات اس تبدیلی کے حق میں کچھ اس انداز میں رونما ہونے لگتے ہیں جیسے کوئی برتر قوت ایک منصوبے کے تحت انھیں برپا کر رہی ہے، اور ہم مسلمان تو اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ یہ تبدیلیاں رب تعالی کی حکمت کا مظہر ہوتی ہیں۔ پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی ناقابل یقین یک طرفہ شکست نے دنیا میں طاقت کے ایک نئے توازن کو جنم دے دیا ہے جس کے زیر اثر پاکستان کے بارے میں عالمی سطح پر تاثر بھی یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔

ریاستوں کے لیے پیدا ہونے والے مواقع محض مستقبل میں بہتر حالات کی نوید نہیں لاتے، یہ احساس ذمے داری میں اضافہ بھی کرتے ہیں۔ بوجھ بڑھ جاتا ہے، توقعات بڑھ جاتی ہیں، اور پھر لازم ہو جاتا ہے کہ اپنی کمزوریوں کو طاقت میں بدلا جائے۔ پاکستان کے موجودہ اندرونی حالات پاکستان کی سب سے بڑی کمزوری ہیں۔ انھیں درست کرنے کی ضرورت جس قدر بھارت سے جنگ سے پہلے تھی، آج سعودی عرب کے ساتھ مشترکہ دفاعی معاہدے کے بعد اس سے کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ اپنے اندرونی معاملات کو درست کرنے کے لیے ایک لمحے کی بھی دیر نہیں کرنی چاہیے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مشترکہ دفاع پاکستان کے صورت حال کے حوالے حوالے سے یہ ہے کہ کے ساتھ کے خلاف کہ دفاع کے بعد

پڑھیں:

امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے

اسکردو (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 02 جون 2026ء ) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اسکردو کے مین بازار میں انتخابی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ انتخابی مہم میں آپ کے پاس آیا تھا اور جی بی کی ہر تحصیل میں گیا اور پورے جی بی کا دورہ کیا اور اسی وقت سے کہہ سکتا ہوں کہ جتنا جی بی میں نے دیکھا ہے وہ کسی سیاستدان نے نہیں دیکھا۔

ساری جماعتوں کے دورے ملا کر بھی ہمارے دوروں کے مقابلے میں کم ہیں۔ ہمارا صرف سیاسی رشتہ نہیں بلکہ نسلوں کا ساتھ ہے۔ میں یہ مہم بھی گزشتہ انتخابی مہم کی طرح کرنا چاہتا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں خوشی کو ماحول تھا لیکن اب ہم سب کے لئے غم کا ماحول ہے۔ ایران میں جو شہادتیں ہوئیں ہیں، بچیوں کو شہید کیا ہے یہ غم کا ماحول ہے۔

(جاری ہے)

جس طرح رمضان میں آیتہ اللہ خامنئی کو ان کی نواسی کے شہید کیا گیا وہ انتہائی قابل مذمت ہے۔

پاکستان پیپلزپارٹی امن پسند اور جنگ کے خلاف ہے۔ یہ کہانی ایران تک نہیں فلسطین اور لبنا ن میں بھی بے گنا ہ لوگوں شہید کیا گیا۔ فیلڈ مارشل امن کی جو کوشش کر رہے ہیں ہیں ہم سب دعاگو ہیں کہ یہ کوشش کامیاب ہو ۔ پوری مسلم دنیا اور دنیا بھر کے نوجوان اس جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔ اس جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بے تحاشہ بڑھ گئی ہے اس لئے ہم اس جنگ کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی سیاست باقی جماعتوں سے مختلف ہے۔ ہم پسماندہ طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان کو حقوق دیتے ہیں اور غریب کا سوچتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک کی ترقی پسماندہ طبقے کی ترقی سے ہے۔ باقی جماعتیں امیروں کو مزید امیر بنانے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں اور اسے نام ترقی کا دیا جاتا ہے۔ کسانوں، مزدوروں، نوجوانوں کی ترقی اصل ترقی ہے۔

قائد عوام شہید ذوالفقار بھٹو نے کسانوں کو زمین مہیا کی۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے لئے عوام کا نعرہ تھا “بینظیر آئے گی، روزگار لائے گی”۔ صدر زرداری نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں بی آئی ایس پی بنا کر روٹی، کپڑا اور مکان کو عملی شکل دی۔ بطور وزیرخارجہ مجھ سے دوسرے ممالک پوچھتے تھے کہ ہم بی آئی ایس پی کے ذریعے اپنے غریبوں کی بھی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

بدقسمتی اس ملک کی یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اور سیاسی جماعتیں ایسی ہیں کہ وہ سوچتی ہیں کہ اپنے امیر دوستوں کے لئے مراعات کیسے دیں اور وہ بی آئی ایس پی کی غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بی آئی ایس پی کی مدد پورے ملک کے غریب عوام کو ملتی ہے۔ ماﺅوں کی دعاﺅں کی وجہ سے ان کی بی آئی ایس پی کوختم کرنے کی سازش ناکام ہوگی۔ وزیراعظم آنے والے بجٹ میں بی آئی ایس پی میں اضافے کا اعلان کریں گے۔

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی پی پی نے ملک کی دفاعی صلاحیت مضبوط کی ہے۔ اس وقت پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے اور کوئی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ نہیں سکتا۔ یہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے تحفہ دیا ہے۔ وہ گڑھی خدا بخش سے پاکستان کا دفاع کر رہے ہیں۔ شہید بی بی نے میزائل ٹیکنالوجی دی کہ وہ اس بم کو لے کر دشمن تک پہنچ سکتے ہیں۔

آج پاکستان کا دفاع اسی وجہ سے ناقابل تسخیر ہے۔ اس کے بعد مشرف کا دور گزرا کہ جب دوسرے ممالک کو Bases بنانے کی اجازت دی گئی۔ صدر زرداری نے سلالہ واقعے کے بعد سارے Bases کو بند کیا۔ جب حال ہی میں مختلف ممالک میں بم دھماکے ہو رہے تھے تو میں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بم اور شہید بی بی کا ذکر کروں گا تو صدر زرداری کو بھی خراج تحسین پیش کروں گا۔

ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان ہر لحاظ سے مضبوط ہو صرف پی پی پی ہی معاشی طور پر یہ کام کر سکتی ہے۔ یہ تین نسلوں کی جدوجہد ہے۔ شہید ذوالفقارعلی بھٹو نے سرداری نظام ختم کیا۔ FCR کا خاتمہ کیا۔ قائدعوام نے بلتستان کی سرزمین پر کھڑے ہو کر اعلان کیا تھا کہ گھاس کھائیں گے لیکن ایٹم بم بنائیں گے۔ گندم اور پٹرول پر سبسیڈی قائدعوام نے دی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ سب کچھ جدوجہد سے حاصل کیا۔

جی بی کو پہلے ناردرن ایریا کہتے تھے صدر زرداری نے جی بی کا نام دیا۔ اب ہم نے مل کر جدوجہد کرکے شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔ ہمیں تین اصولوں حق حاکمیت ، حق ملکیت اور حق روزگار پر عمل کرنا ہوگا۔ یہ تب ہوگا جب اٹھارہویں ترمیم کے مطابق دیگر صوبوں کی طرح حقوق جی بی کو بھی ملیں۔آپ کے پہاڑوں کے نیچے جو وسائل ہیں ان پر حق جی بی کے عوام کا ہے۔

وسائل پر پہلا حق جی بی کے عوام ہے اور اگر یہ حق ملکیت مل جائے تو پاکستان کی ترقی ہوگی جس طرح تھر کے کوئلے سے پورا پاکستان مستفید ہو رہا ہے۔ شہید بی بی نوے کی دہائی میں یہ منصوبہ شروع کرنا چاہتی تھیں لیکن اس کے راستے میں رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ ہم نے یہ منصوبہ 2015 میں شروع کیا اور اس منصوبے کے سربراہ سندھ کے وزیراعلیٰ کو بنایا۔ اس منصوبے میں روزگار کا 80 فیصد تھر کے عوام کو دیا گیا۔

تھر کے منصوبے سے تھرکے عوام کو مفت بجلی دیتے ہیں۔ ہم نے تھر کے عوام کو تھر کول منصوبے میں ان کا شئیر دینا چاہا لیکن ان لوگوں نے پیسے لے لئے لیکن آپ کو اپنے وسائل میں شیئر لینا چاہیے۔ CPEC کا سب سے بڑا منصوبہ تھرکو ل کا ہے۔ جب آپ کو حق ملکیت ملے گا تو آپ وسائل کے حصہ دار ہوں گے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہم ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں لیکن دوسرے لوگ غریبوں کا روزگار چھینتے ہیں۔

یہ سمجھتے ہیں کہ امیر کو اور امیر بنائیں گے تو وہ نوکریاں دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ ہماری سیاست عوام دوست اور غریب دوست ہے جبکہ دیگر لوگوں کی سیاست غریب دشمن اور امیردوست ہوتی ہے۔ اس لئے تیر پر مہر لگا کر غریب دوست حکومت بنائیں۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا میں جانتا ہوں کہ آپ کے ہاں بارشوں اور سیلاب سے بہت نقصان ہوتا ہے۔

سندھ میں بھی 2022 میں سیلاب آیا اور دو تہائی سندھ پانی کے نیچے چلا گیا۔ اس وقت سارے غریب لوگ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں گھر بنا کر دئیے جائیں۔ یہ پاکستان کی پہلی حکومت جس نے غریب لوگوں کو گھر بنا کر دئیے۔ میں کسی صوبے سے نہیں عالمی سطح پر مقابلہ کرتا ہوں اور 20 لاکھ گھر بنانے بنانے کا منصوبہ دنیا میں سب سے بڑا منصوبہ ہے اور یہ گھر موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔

خواتین کو ان گھروں کا مالک بنایا اور زمین کی یہ منتقلی قائد عوام کے بعد سب سے بڑا منصوبہ ہے کیونکہ یہ زمین بھی خواتین کے نام کر رہے ہیں۔ 7 جون کو تیر پر مہر لگائی تو اسی طرح جی بی کی خواتین کو بھی گھر بنا کر دیں گے۔ ہم غریب اور عوام دوست ہیں اسی لئے بی آئی ایس پی اور گھروں کا منصوبہ دیتے ہیں ۔ سندھ میں ہسپتال بنائے، سندھ کا این آئی سی وی ڈی، این آئی سی ایچ، ایس آئی یوٹی اور ڈاﺅ میڈیکل کالج سے لے کر گمبٹ تک دل ، گردے، کینسر اور جگر کا علاج پورے پاکستان کے عوام کو مفت مہیا کرتے ہیں۔

دیگر صوبے ہسپتالوں کی نجکاری کرتے ہیں تاکہ ان کے امیر دوستوں کو فائدہ ہو۔ وسائل نہ ہونے کی وجہ سے کسی کو علاج سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ 7جون کو انشااللہ جی بی کے عوام باہر نکلیں گے اور تیر پر مہر لگاکر پیپلزپارٹی کی حکومت بنائیں گے تاکہ حق حاکمیت، حق ملکیت اور حق روزگار، مفت علاج کے ادارے اور گھر بنانے کا منصوبہ شروع ہو سکے۔

ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے جی بی کے عوام کی خدمت کریں گے اور آپ کو معاشی طور پر مضبوط کریں گے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں انہوں نے ڈاکٹر مبشر حسن کو ایک تحقیق کرنے کو کہا تھا جس سے 70 کی دہائی میں یہ بات سامنے آئی کہ جی بی میں ہم 50ہزار میگا واٹ بجلی بنا سکتے ہیں جو ہم بنا کر دکھائیں گے۔ یہ منصوبہ اسلام آباد میں کوئی بیوروکریٹ نہیں ہم اور آپ مل کر بنائیں گے اور اسلام آباد کو بجلی بیچیں گے۔

7تاریخ کو اس صوبے کے عوام کو سوچنا ہے کہ آپس میں لڑ کر کسی اور کو فائدہ نہ پہنچائیں۔ پی پی پی کو بھاری اکثریت ملتی ہے تو ہم مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ہم نے سکردو کو وزیراعلی اور گورنر دیا۔ یہ صرف مہدی شاہ کی عزت نہیں بلکہ سکردو کے عوام کی عزت ہے۔ اب میدان میں نئی نسل آگئی ہے اور آپ کے ووٹ اور ساتھ کی وجہ سے توقیر شاہ کو سکردو 1 سے جتوائیں گے۔

آپ سکردو 2 میں محمد علی شاہ کو ووٹ دیںسکردو 3 سے فدا محمد ناشاد کو جتوانا ہے۔ اسکردو4 میں راجہ ناصر علی خان کو منتخب کرنا ہے۔ خرمنگ کے اقبال حسین کو جتوانا ہے۔ گزشتہ انتخابات میں شگر سے عمران ندیم کو نہیں جیتنے دیا گیا تھا لیکن اس مرتبہ انہیں جتوانا ہے اور گھانچے1 سے ڈاکٹر عاشق حسین کو منتخب کرنا ہے۔ گھانچے 2 میں میری امیدوار آمنہ انصاری ہیں اور گھانچے 3 میں انجینئر محمد اسماعیل ہیں۔

میں چاہتا ہوں کہ انجینئر محمد اسماعیل کے حلقے سے جی بی ہاﺅسنگ اینی شئیٹو شروع کروں۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تمام امیدواروں سے ہاتھ کھڑے کروا کر وعدہ لیا کہ وہ منتخب ہوکر عوام کی خدمت کریں گے۔ انہوں نے عوام سے بھی وعدہ لیا کہ 7جون کو تیرپر مہر لگائیں تاکہ شہید قائد عوام اور شہید بی بی کے مشن کو مکمل کیا جا سکے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ آصفہ بی بی کو لے کر سکردو آئے ہیں اور اس امید کا اظہار کیا کہ جس طرح بلتستان کے عوام نے انہیں کبھی مایو س نہیں کیا اسی طرح بی بی آصفہ کو بھی مایوس نہیں کریں گے۔ خطاب کے آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے عوام کے ساتھ مل کر پارٹی کے لئے نعرے لگوائے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان