Jasarat News:
2026-06-03@05:01:19 GMT

امن اور انسانیت دشمن امریکا!

اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ کے علاقے میں محصور، مجبور اور نہتے فلسطینی مسلمانوں کے خلاف اسرائیل کے فضائی اور زمینی حملے پوری شدت سے جاری ہیں۔ درندہ صفت صہیونی فوج نے تازہ حملوں میں غزہ کے 98 فلسطینی شہید کر دیے، 385 فلسطینی زخمی ہو گئے، مسجد شہید اور رہائشی عمارتیں تباہ کر دیں۔ عرب میڈیا کے مطابق صہیونی فوج نے الشفا اسپتال کے قریب بمباری کی جس میں 19 فلسطینیوں کو شہید کر دیا، اسرائیلی فوج نے ال اہلی اسپتال کے قریب بھی بمباری کی جہاں 4 فلسطینیوں نے جام شہادت نوش کیا، غزہ شہر میں بمباری سے مسجد سمیت متعدد رہائشی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ ایک روز میں 98 فلسطینی اسرائیلی فوج کی دہشت گردی کا نشانہ بنے، 7 اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی فوج کے حملوں میں شہداء کی مجموعی تعداد 65 ہزار کا ہندسہ عبور کر گئی۔ مقامی رہائشیوں اور عینی شاہدین کے مطابق درجنوں اسرائیلی ٹینک اور فوجی گاڑیاں غزہ شہر کے ایک بڑے رہائشی علاقے میں داخل ہو گئے ہیں، یہ اسرائیل کی زمینی کارروائی کے دوسرے دن کی پیش رفت ہے جس کا مقصد علاقے پر قبضہ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ مزید چار افراد غذائی قلت کے باعث جان کی بازی ہار گئے، جس کے بعد اگست کے آخر میں اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ ادارے کی جانب سے غزہ شہر میں قحط کا اعلان کیے جانے کے بعد سے غذائی قلت سے ہونے والی اموات کی کل تعداد 154 ہو گئی ہے۔ غزہ شہر سے سامنے آنے والی ویڈیو فوٹیج میں ٹینک، بلڈوزر اور بکتر بند گاڑیاں شیخ رضوان کے علاقے کے کناروں پر حرکت کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، ایسے میں مختلف اقدامات ایسے بھی کیے جا رہے ہیں جن کی وجہ سے علاقے میں اسرائیلی فوج کی پیش قدمی کو چھپایا جا سکے۔ سیودی چلڈرن اور آکسفیم سمیت 20 سے زائد بڑی امدادی تنظیموں کے سربراہان نے خبر دار کیا ہے کہ غزہ کی صورت حال کی غیر انسانی نوعیت ناقابل برداشت ہے۔ دوسری جانب چین اور سعودی عرب نے اسرائیلی فوجی آپریشن میں توسیع کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ایک جانب یہ صورت حال ہے کہ انسانیت سسک رہی ہے اور پوری دنیا کے زندہ ضمیر لوگ اسرائیلی سفاکیت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کر رہے ہیں مگر دوسری جانب امریکا کی ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی قرار داد ایک بار پھر ویٹو کر دی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکا نے جنگ کو روکنے کی کوشش کو ناکام بنایا ہو بلکہ سلامی کونسل میں پیش کی جانے والی غزہ میں جنگ بندی کی یہ چھٹی قرار داد ہے جسے امریکا نے یک طرفہ طور پر ویٹو کیا ہے اور یہ ویٹو اس کیفیت میں کیا گیا ہے جب کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پندرہ میں سے چودہ ارکان نے قرار داد کی حمایت میں ووٹ دیا اور قرارداد کی مخالفت میں واحد فیصلہ کن ویٹو ووٹ امریکا کا تھا۔ امریکی ویٹو کے باعث غیر موثر اور مسترد قرار پانے والی اس قرار داد میں غزہ میں فوری طور پر غیر مشروط اور مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا اور اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ وہ فلسطینی علاقے میں امدادی سامان کی فراہمی پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے۔ یہ قرار داد سلامتی کونسل کے 15 میں سے 10 غیر مستقل رکن ممالک نے پیش کی تھی جس میں پاکستان بھی شامل تھا۔ امریکا کے اس اقدام پر کئی ممالک نے مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ امریکی مندوب مورگن اور ٹاگس نے کہا کہ امریکا اس ناقابل قبول قرار داد کو مسترد کرتا ہے اور حماس سے فوری یرغمالیوں کی رہائی اور ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ امریکی نمائندے نے نہایت شرمناک طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگ بندی کی قرار داد کو ویٹو کرتے ہوئے یہ اعلان بھی کیا کہ امریکا اپنے شراکت داروں سے مل کر اس خونریز تنازعے کے خاتمے کے لیے کام جاری رکھے گا۔ معلوم نہیں سفاک اور درندہ صفت اسرائیل کے علاوہ کون سے شراکت دار ہیں جن سے مل کر امریکا خونریز تنازعے کے خاتمے کا دعویدار ہے جب کہ سامنے کی حقیقت تو یہی ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اور دس غیرمستقل ارکان میں سے چودہ نے قرار داد کے حق میں ووٹ دیا اور صرف امریکا نے اس کی مخالفت کی گویا ساری دنیا ایک طرف ہے اور صرف امریکا پوری دنیا کے مقابل کھڑا اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ اس ساری صورت حال کا ایک پہلو یہ بھی ہے غزہ میں جنگ بندی کا راستہ روکنے والے امریکا کا صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے دیگر خطوں میں جنگیں بند کروانے کا کریڈٹ لیتے نہیں تھکتا اس کا دعویٰ ہے کہ اس نے پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح صدر ٹرمپ ایران اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی کروانے کا بھی دعوے دار ہے۔ وہ یوکرین اور روس میں جاری جنگ رکوانے کے لیے کوششوں کا کریڈٹ لینے کا بھی شدت سے خواہاں ہے یہی نہیں وہ اپنی اس امن پسندی کے صلہ کا بھی دنیا سے ’’نوبل امن انعام‘‘ کی صورت میں طلب گار ہے اور پاکستان جیسے بعض ممالک معلوم نہیں کن دلائل کی بنیاد پر اس کی غزہ میں مسلمانوں کی خونریزی اور نسل کشی کی سرپرستی جیسے سفاکانہ اور امن دشمن اقدامات کو نظر انداز کر کے اسے ’’نوبل امن انعام‘‘ دیے جانے کی تائید و حمایت پر کمر بستہ ہیں! دریں اثنا اسرائیل کی جارحیت اور دہشت گردی کے شکار اہل فلسطین خصوصاً بچوں سے اظہار یکجہتی کے لیے جماعت اسلامی کے زیر اہتمام ’’کراچی چلڈرن غزہ مارچ‘‘ کا اہتمام کیا گیا مارچ میں شہر بھر سے نجی و سرکاری اسکولوں کے طلبہ و طالبات نے لاکھوں کی تعداد میں شرکت کی اور لبیک یا اقصیٰ کے نعرے لگا کر غزہ کے نہتے مظلوم بچوں سے اظہار یکجہتی کیا۔ فضا نعرہ تکبیر اللہ اکبر، لبیک لبیک اللھم لبیک، لبیک یا غزہ، لبیک یا اقصیٰ کے نعروں سے گونجتی رہی ۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے طلبہ و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین میں جاری اسرائیلی دہشت گردی و جارحیت سے 97 فی صد اسکول اور 90 فی صد اسپتال تباہ کیے جا چکے ہیں، صحافیوں اور نمازیوں کو نشانہ بنایا گیا اور مساجد پر بمباری کی گئی۔ اقوام متحدہ پوری دنیا میں عضو معطل بن چکی ہے ، اس کی قرار دادوں کی کوئی حیثیت نہیں رہی، اسرائیل کو امریکا کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے جب کہ مسلم دنیا کے حکمران بے حسی کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں۔ غزہ میں روزانہ کی بنیاد پر 20 سے 25 معصوم بچے شہید ہو رہے ہیں، اب تک 22 ہزار سے زائد بچے شہید اور 42 ہزار زخمی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، انسانی حقوق کی بات کرنے والا امریکا فلسطین میں انسانیت کے قتل عام کی سرپرستی اور پشت پناہی کر رہا ہے امیر جماعت اسلامی نے چلڈرن مارچ سے خطاب میں بجا طور پر اقوام متحدہ کی بے عملی اور امریکا کی دو عملی کی جانب عالمی ضمیر کو متوجہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی ایک جانب عالمی ضمیر کو جگانے کے لیے مسلسل مختلف سطحوں پر احتجاج منظم کر رہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ فلسطین کے مظلوم اور مجبور مسلمانوں کی عملی مدد کے لیے بھی ’الخدمت‘‘ کے ذریعے ہمہ تن مصروف عمل ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا فلسطینی مسلمانوں کی مدد صرف جماعت اسلامی کی ذمے داری ہے دیگر سیاسی و مذہبی جماعتیں اس معاملہ میں بری الذمہ ہیں؟ کیا غزہ کا جہاد فرض کفایہ ہے کہ صرف جماعت اسلامی کے متحرک ہونے سے دیگر پوری قوم سے یہ فرض ساقط ہو جائے گا؟؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اسرائیلی فوج جماعت اسلامی علاقے میں کرتے ہوئے دنیا کے نے والی ہے اور کیا ہے کے لیے

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی سرزنش، کیا اسرائیل اب امریکا کے لیے بوجھ بنتا جا رہا ہے؟
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان