صدر ٹرمپ اقوام متحدہ اجلاس میں ‘امریکی اقدار’ کو فروغ دیں گے، امریکی محکمہ خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, September 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مارکو روبیو اگلے ہفتے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان تھامس پیگوٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ اجلاس کے دوران ٹرمپ اور روبیو امن، خودمختاری اور آزادی جیسے امریکی اقدار کو اجاگر کریں گے۔ یہ اجلاس پیر سے جمعرات تک جاری رہے گا۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا نے چین سے تعلقات پر وسطی امریکی شہریوں کے ویزے محدود کردیے
پیگوٹ کے مطابق ‘روبیو اجلاس میں اقوام متحدہ کو اپنی اصل بنیادوں کی طرف واپس لے جانے اور اسے امن اور تعاون کے فروغ کے مؤثر ادارے کے طور پر دوبارہ فعال کرنے پر زور دیں گے نہ کہ ایک بوجھل بیوروکریسی کے طور پر جو قومی خودمختاری کو نقصان پہنچائے اور تنوع، مساوات اور شمولیت جیسی تباہ کن نظریات کو آگے بڑھائے۔’
روبیو اس دوران اہم عالمی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے اور مشترکہ سلامتی کے معاملات، تنازعات کے حل اور باہمی تعاون پر بات کریں گے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب قدامت پسند رہنما چارلی کرک یوٹا کی ایک یونیورسٹی میں تقریب کے دوران فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔ کرک کی ہلاکت کے بعد متعدد حلقوں نے ان کی موت پر خوشی کا اظہار کیا جس کے بعد روبیو نے ایسے غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ کرنے کا اعلان کیا جنہوں نے کرک کی موت کا جشن منایا یا اسرائیل-حماس جنگ کے تناظر میں انتہا پسندانہ سرگرمیوں میں حصہ لیا۔
محکمہ خارجہ نے گزشتہ ماہ فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) اور فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کے ارکان کے ویزے بھی منسوخ کر دیے اور ان کی اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں شرکت روک دی۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ ادارے غزہ میں جنگ بندی کے مؤثر معاہدے میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ کی صورتحال اخلاقی، سیاسی اور قانونی طور پر ناقابلِ برداشت ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
روبیو نے اسرائیل اور عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور جنگ کے خاتمے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کا دورہ اس وقت ہوا جب 9 ستمبر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں حماس کے 5 ارکان مارے گئے۔
اقوام متحدہ کی 80 ویں جنرل اسمبلی کا اجلاس 9 ستمبر سے نیویارک میں جاری ہے اور 30 ستمبر تک جاری رہے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس صدر ڈونلڈ ٹرمپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ جنرل اسمبلی اجلاس صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنرل اسمبلی اقوام متحدہ کریں گے
پڑھیں:
’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر اب تک کے سب سے بڑے فوجی حملے کی منظوری دینے کے قریب ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں ایران پر ایک بہت بڑے حملے پر غور کر رہا ہوں جو پہلے ہونے والے تمام حملوں سے کہیں بڑا ہوگا۔
انھوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تمام عسکری آپشنز زیر غور ہیں۔ میں فیصلہ کرنے کے بہت قریب ہوں اور اس کی تمام تیاریاں بھی مکمل ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اگر وہ چاہیں تو اسرائیل دو منٹ میں اس کارروائی میں شامل ہو جائے گا تاہم ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
قبل ازیں ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کے بحیرہ احمر میں دو سعودی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد امریکی صدر نے ایران اور حوثیوں دونوں کو بڑی فوجی سزا دینے کی دھمکی بھی دی تھی۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا تھا کہ اگر حوثیوں نے دوبارہ ایسے حملے کیے تو امریکا انھیں ایران کی کارروائی تصور کرے گا کیونکہ حوثی اس کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت ایک بار پھر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں جہاز رانی کو لاحق خطرات نے عالمی توانائی منڈی میں تشویش بڑھا دی ہے۔
ادھر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ خطہ مسلسل وسیع ہوتے تصادم کی لپیٹ میں آ رہا ہے۔ ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے اور ہر نئی کشیدگی اگلی کشیدگی کا سبب بن رہی ہے۔