فٹبال کی دنیا کا سب سے بڑا اعزاز، “بیلن ڈی اور” فرانسیسی کھلاڑی نے جیت لیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دنیا کے مقبول ترین فٹبال ایوارڈ ’بیلن ڈی اور‘ کی تقریب پیرس میں منعقد ہوئی، جس میں فرانس کے فارورڈ عثمانے ڈیمبلے نے بہترین مرد کھلاڑی کا ایوارڈ اپنے نام کر لیا۔
28 سالہ ڈیمبلے نے گزشتہ سیزن میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 53 میچز میں 35 گول اسکور کیے، جس کی بنیاد پر انہیں یہ اعزاز دیا گیا۔ بیلن ڈی اور جیتنے کے لیے ڈیمبلے کا نام اسپین کے نوجوان اسٹار لامین یمال کے ساتھ نامزد کیا گیا تھا، تاہم کامیابی ڈیمبلے کے حصے میں آئی۔
خواتین کے مقابلے میں یہ ایوارڈ اسپین کی اسٹار کھلاڑی ایتانا بونماٹی نے جیتا، جو مسلسل تیسری بار بیلن ڈی اور جیتنے والی پہلی خاتون کھلاڑی بن گئی ہیں۔ ان کی یہ کامیابی نہ صرف انفرادی کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے بلکہ اسپین کی خواتین فٹبال ٹیم کی بڑھتی ہوئی برتری کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
بیلن ڈی اور ایوارڈ دنیا بھر میں فٹبال کا سب سے معتبر اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ یہ ایوارڈ فرانس فٹبال کی جانب سے سال کے بہترین کھلاڑی کو دیا جاتا ہے اور اس کا فیصلہ دنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 180 صحافیوں کے ووٹوں سے ہوتا ہے۔ اس روایت کو دہائیوں سے فٹبال میں اعلیٰ ترین اعزاز کی حیثیت حاصل ہے۔
واضح رہے کہ بیلن ڈی اور کے ریکارڈ یافتہ کھلاڑیوں میں لیونل میسی سب سے آگے ہیں جنہوں نے یہ ایوارڈ 8 بار جیتا ہے، جبکہ پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو 5 مرتبہ یہ اعزاز اپنے نام کر چکے ہیں۔ ڈیمبلے کی جیت اس بات کا اشارہ ہے کہ فٹبال کی دنیا میں ایک نئی نسل تیزی سے اپنی جگہ بنا رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بیلن ڈی اور
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ کے وژنری اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔ ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔ رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔