عثمان ڈیمبیلے فٹبال کا سب سے بڑا اعزاز بیلن ڈی اور اپنے نام کرنے والے پہلے سیاہ فام مسلمان بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, September 2025 GMT
پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) کلب کے کھلاڑی عثمان ڈیمبیلے نے پیر کے روز دنیا کے سب سے بڑے انفرادی فٹبال اعزاز بیلن ڈی اور اپنے نام کر لیا اور اعزاز حاصل کرنے والے پہلے سیاہ فام مسلمان بن گئے۔
یہ ایوارڈ انہیں گزشتہ سیزن میں کلب کی شاندار کارکردگی اور چیمپئنز لیگ کی فتح میں مرکزی کردار ادا کرنے پر دیا گیا۔ خواتین کا ایوارڈ اسپین کی اسٹار آئتانا بونماتی نے مسلسل تیسری بار جیتا۔
یہ بھی پڑھیے: کرسٹیانو رونالڈو نے فٹ بال کی تاریخ میں ایک اور سنگ میل عبور کرلیا
28 سالہ ڈیمبیلے نے بارسلونا کے نوجوان سینسیشن لامین یامال کو پیچھے چھوڑتے ہوئے یہ اعزاز حاصل کیا۔ اس سے قبل 2024 میں یہ ٹرافی اسپین اور مانچسٹر سٹی کے مڈفیلڈر روڈری نے جیتی تھی۔ بیلن ڈی اور کا اعزاز کئی برسوں تک لیونل میسی اور کرسٹیانو رونالڈو کے قبضے میں رہا۔
Beaucoup de joie, de fierté et d’émotion.
— Ousmane Dembélé (@dembouz) September 23, 2025
ڈیمبیلے، جو فرانس کی 2018 ورلڈ کپ فاتح ٹیم کا حصہ رہ چکے ہیں، نے پچھلے سیزن میں تمام مقابلوں میں 35 گول اسکور کیے۔ ان کی بدولت پی ایس جی نے لیگ اور کپ ڈبل کے ساتھ ساتھ پہلی مرتبہ کلب کی تاریخ میں چیمپئنز لیگ بھی جیتی۔ فائنل میں پی ایس جی نے میونخ میں انٹر میلان کو 0-5 سے شکست دی۔
یہ بھی پڑھیے: دنیا بھر میں ہونے والے فٹ بال میچز میں سیالکوٹ کے بنے فٹ بال کا استعمال
ڈیمبیلے نے ایوارڈ وصول کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں، یہ پی ایس جی کے ساتھ ایک ناقابلِ یقین سیزن تھا۔ یہ انفرادی ٹرافی ہے لیکن حقیقت میں یہ اجتماعی کامیابی ہے۔
ان کے کوچ لوئس اینریکے کو بھی سال کے بہترین کلب کوچ کا ایوارڈ دیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
فٹ بال کھلاڑی کھیل
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: فٹ بال کھلاڑی کھیل پی ایس جی فٹ بال
پڑھیں:
باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ مالی مشکلات یا کسی نجی معاہدے کی بنیاد پر باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا اور یہ ذمہ داری اسلامی تعلیمات کے مطابق مستقل اور قابل نفاذ فریضہ ہے۔جسٹس محسن اختر کیانی نے 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے باپ اختر حسین اعوان کی درخواست خارج کر دی اور فیملی کورٹ و اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ نابالغ بچے کا نان و نفقہ صرف قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ غیر ادا شدہ نان و نفقہ باپ پر قرض تصور ہوگا جو وقت گزرنے سے ختم نہیں ہو سکتا۔فیصلے میں سور البقرہ، سور الطلاق اور متعدد احادیث نبوی کے حوالے دیتے ہوئے کہا گیا کہ معاہدے یا رضامندی کے ذریعے نابالغ بچے کے حقوق ختم نہیں کیے جا سکتے، خصوصا جب بچہ معذوری کی حالت میں ہو۔(جاری ہے)
درخواست گزار کا موقف تھا کہ 2005 میں فریقین کے درمیان ہونے والے رضامندی نامے کے تحت تاحیات خرچہ طے ہو چکا تھا اور ماضی کے نان و نفقہ کی وصولی قانونا چھ سال سے زائد مدت کے لیے نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے ماضی کے نان و نفقہ سے متعلق اسلامی اصولوں کی روشنی میں نئی قانون سازی کی سفارش کرتے ہوئے فیصلے کی نقل لا اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارت قانون و انصاف کو ارسال کرنے کا حکم بھی دیا۔