چیئرمین سی ڈی اے کے وارنٹ گرفتاری جاری کروں تب کام ہو گا: جسٹس محسن اختر
اشاعت کی تاریخ: 25th, September 2025 GMT
اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+وقائع نگار) اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے شہری کو پلاٹ کا قبضہ نہ دینے کے خلاف کیس کی سماعت میں اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین سی ڈی اے کے وارنٹ گرفتاری جاری کروں تب کام ہوگا؟اسلام آباد کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سیکٹر ای الیون میں شہری کو پلاٹ کا قبضہ نہ دینے کے خلاف کیس کی سماعت کی۔عدالتی حکم کے باوجود متاثرہ شہری کو پلاٹ کا قبضہ نہ دینے پر جسٹس محسن اختر کیانی نے وکیل سی ڈی اے سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ اتنے عرصے سے کیس چل رہا ہے ابھی تک متاثرین کو قبضہ کیوں نہیں دیا گیا، کیا چیئرمین سی ڈی اے کے وارنٹ گرفتاری جاری کروں تب کام ہوگا؟ اپنے آفس کو بتائیں اپنا کام پورا کریں ورنہ وارنٹ گرفتاری ہوں گے، پھر جرمانہ بھی ہوگا اور چیئرمین اور ممبر بورڈ کو یہاں بٹھا کر کہوں گا آرڈر کریں۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ جب وارنٹ ہوں گے یا کوئی سخت آرڈر ہوگا تو پھر ان کی ذات پر حرف آجائے گا، انہیں سمجھائیے گا، بے شک انہیں سمجھ نہ آئے لیکن لا افسر کا کام ہوتا ہے بتانا۔وکیل سی ڈی اے نے کہا کہ ممبر سی ڈی اے بورڈ چار ہفتوں کی رخصت پر ہیں وقت دیا جائے، عدالت نے کہا کہ جو چار ہفتے کی چھٹی پر ہیں انہیں کہیں آئندہ سماعت سے قبل متاثرہ شہری کی داد رسی کریں، ممبر بورڈ کو بتائیں اگر عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہو تو چھٹی کے باوجود عدالت آجائیں۔وکیل درخواست گزار نے کہا کہ کئی سال گزر گئے سی ڈی اے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا۔ عدالت نے آئندہ سماعت تک متاثرہ شہری کو پلاٹ کا قبضہ دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت اگلے ماہ تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: جسٹس محسن اختر کیانی نے شہری کو پلاٹ کا قبضہ وارنٹ گرفتاری نے کہا کہ سی ڈی اے
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔