پی ٹی سی ایل گروپ اور مرکنٹائل نے پاکستان میں آئی فون 17 کی لانچ کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
پی ٹی سی ایل گروپ، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ اور یوفون 4G) نے مرکنٹائل، جو ایپل کا پاکستان میں آفیشل ڈسٹری بیوٹر ہے، کے اشتراک سے پاکستان بھر میں آئی فون 17 کی فروخت کا آغاز کردیا ہے۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ صارفین کو جدید ترین ڈیوائس کے ساتھ اضافی سہولیات اور خصوصی مراعات فراہم کی جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں:آئی فون 17 پرو میکس سے لی گئی پہلی تصویر جاری
تفصیلات کے مطابق ہر آئی فون 17 کے ساتھ دو سالہ انڈسٹری لیڈنگ وارنٹی دی جائے گی جس میں ایک سال ایپل اور ایک سال مرکنٹائل کی جانب سے ہوگا۔
اس کے ساتھ ساتھ فوری چوری اور نقصان کی انشورنس بھی فراہم کی جائے گی جس کی مالیت 4 لاکھ روپے تک ہوگی۔ تمام وارنٹی کلیمز ایپل اور مرکنٹائل کے آفیشل سروس سینٹرز کے ذریعے ہینڈل کیے جائیں گے۔
یوفون 4G کے نئے اور موجودہ صارفین کو اس آفر کے تحت مفت eSIM اور ایک پریمیم کنیکٹیویٹی پیکیج دیا جائے گا جس میں چھ ماہ کے لیے ایک ٹیرا بائٹ سے زائد موبائل ڈیٹا، 1000 آف نیٹ اور 10,000 آن نیٹ منٹس شامل ہوں گے۔
اسی طرح پی ٹی سی ایل براڈبینڈ صارفین کو 30 ایم بی پی ایس کی قیمت پر 50 ایم بی پی ایس اسپیڈ پورے سال کے لیے فراہم کی جائے گی۔
لانچ کو مزید پرکشش بنانے کے لیے یوپیسہ اور پی ٹی سی ایل صارفین کو مفت آئی فون 17 جیتنے کا موقع بھی دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وہ 7 ممالک جہاں آئی فون 17 کی قیمت پوری دنیا سے کم ہے
ابتدائی 100 خریداروں کو ایپل چارجر مفت دیا جائے گا جبکہ تمام صارفین ایپل ایئر پوڈز جیتنے کے لیے خوش نصیبی ڈرا میں شامل ہوں گے۔ پری بکنگ کرنے والوں کو کیش ڈسکاؤنٹ بھی فراہم کیا جائے گا۔
پی ٹی سی ایل گروپ کے مطابق اس اقدام کا مقصد ایپل کی جدید ٹیکنالوجی کو ہائی اسپیڈ براڈبینڈ اور 4G سروسز کے ساتھ جوڑ کر صارفین کو محفوظ، بااعتماد اور جدید ڈیجیٹل سہولیات فراہم کرنا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ٹی سی ایل صارفین کو آئی فون 17 فراہم کی کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔