زبیر بلوچ کے قتل کی تحقیقات کی جائے، امان اللہ کنرانی
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
اپنے ایک بیان میں امان اللہ کنرانی نے کہا ہے کہ میجر جنرل سکندر مرزا کے دور سے حالیہ سالوں تک گھروں میں گھس کر قانون و آئین سے ماوراء اتنے قتل نہیں کئے جاتے تھے، جتنے اب معمول بن چکے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی ایڈووکیٹ نے زبیر بلوچ ایڈووکیٹ کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سانحہ دالبندین کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ میجر جنرل سکندر مرزا کے دور سے حالیہ سالوں تک گھروں میں گھس کر قانون و آئین سے ماوراء اتنے قتل نہیں کئے جاتے تھے، جتنے اب معمول بن چکے ہیں۔ جیسے دالبندین میں ایک مہذب، پرامن و تعلیم یافتہ نوجوان وکیل زبیر بلوچ کو گھر میں گھس کر گولیوں سے بھون ڈالا گیا۔ ہم اس واقعہ کو 26 اگست 2006 کو نواب محمد اکبر خان بگٹی کی شہادت کی طرح سینکڑوں بلوچ و پشتون نوجوانوں کی زندگیوں کو گل کرنے کا تسلسل سمجھتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسی طرح ہزاروں کی تعداد میں لاپتہ افراد کی جبری گمشدگیوں کی غیر آئینی و غیر قانونی عمل کو آئین کی صریحا خلاف ورزی اور قابل مذمت عمل کو انسانی و اسلامی و شہری و اخلاقی اقدار، چادر اور چار دیواری کے تقدس کو تار تار و پامالی کا دانستہ حصہ سمجھ کر نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں دالبندین سانحہ کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ جیسے جنرل آصف نواز جنجوعہ مرحوم نے ٹنڈو بہاول سندھ کے بے گناہ مزارعین کے خلاف جھوٹے چھاپے میں مارنے جانے پر میجر و کیپٹن و 9 اہلکاروں کو تختہ دار پر لٹکایا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔