نواز شریف کو جنیوا کے اسپتال سے فارغ کر دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو کو جینیوا کے اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فیملی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو جنیوا کے اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے، جہاں وہ گزشتہ سات روز سے زیرِ علاج تھے۔
فیملی ذرائع کے مطابق نواز شریف کے دل کے حوالے سے ایک پروسیجر کیا گیا جس کے بعد اب ان کی صحت تسلی بخش ہے۔ فی الحال وہ جنیوا کے ایک ہوٹل میں اپنے بیٹے حسن نواز اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان کے ہمراہ مقیم ہیں۔
ذرائع کے مطابق نواز شریف کا علاج اسی غیر ملکی سرجن نے کیا جس نے ماضی میں بھی ان کے علاج کی ذمہ داری نبھائی تھی۔
خاندان کا کہنا ہے کہ وہ ہر لحاظ سے صحتیاب اور بہتر محسوس کر رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نواز شریف
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔