پنجاب، سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلے کیلئے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ پاس کرنا ضروری قرار
اشاعت کی تاریخ: 26th, September 2025 GMT
فائل فوٹو
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں محکمہ صحت سے متعلق فیصلے کیے گئے ہیں۔
پنجاب کے پبلک اور پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز کے لیے ایڈمشن پالیسی کی منظوری دیدی گئی ہے، سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ پاس کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے جبکہ اوور سیز پاکستانیز کے بچوں کے لیے ایم ڈی کیٹ میں 10ہزار ڈالر فیس مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نجی میڈیکل کالج کی لسٹ میں نام آنے پر امیدوار کو یو ایچ ایس میں ایک تہائی فیس جمع کرانا ہوگی، نجی کالجز کی حتمی میرٹ لسٹ آنے کے بعد یو ایچ ایس کالج کو جمع شدہ ایک تہائی فیس ٹرانسفر کردیگی، طلبہ حتمی میرٹ لسٹ آنے پر متعلقہ پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں ہی باقی فیس جمع کرائیں گے۔
علاوہ ازیں پرائیویٹ اسپتالوں میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کے بعد لازمی سروس کی باہمی تجویز پر اتفاق کیا گیا ہے، ٹرینی ڈاکٹر کو پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے متعلقہ شعبے میں اسپیشلائزیشن کے لیے بھیجا جائے گا۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے ساہیوال میں پہلی کامیاب انجیو پلاسٹی پر اظہارِ مسرت اور میو اسپتال کوابلیشن سینٹر میں علاج کے لیے فول پروف اور شفاف طریقے کار وضع کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے پنجاب کے مختلف اداروں کے بورڈ آف منیجمنٹ کی منظوری اور کہا کہ پنجاب کے ہر اسپتال میں غریب مریض کو پیسے خرچ کیے بغیر علاج کی سہولت ملنی چاہیے، چاہتی ہوں کہ کینسر کے ہر مریض کا علاج ممکن بنایا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔