فائل فوٹو

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس میں محکمہ صحت سے متعلق فیصلے کیے گئے ہیں۔

پنجاب کے پبلک اور پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالجز کے لیے ایڈمشن پالیسی کی منظوری دیدی گئی ہے، سرکاری میڈیکل کالجز میں داخلے کے لیے ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ پاس کرنا ضروری قرار دیا گیا ہے جبکہ اوور سیز پاکستانیز کے بچوں کے لیے ایم ڈی کیٹ میں 10ہزار ڈالر فیس مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

نجی میڈیکل کالج کی لسٹ میں نام آنے پر امیدوار کو یو ایچ ایس میں ایک تہائی فیس جمع کرانا ہوگی، نجی کالجز کی حتمی میرٹ لسٹ آنے کے بعد یو ایچ ایس کالج کو جمع شدہ ایک تہائی فیس ٹرانسفر کردیگی، طلبہ حتمی میرٹ لسٹ آنے پر متعلقہ پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں ہی باقی فیس جمع کرائیں گے۔

علاوہ ازیں پرائیویٹ اسپتالوں میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کے بعد لازمی سروس کی باہمی تجویز پر اتفاق کیا گیا ہے، ٹرینی ڈاکٹر کو پرائیویٹ میڈیکل کالجز کے متعلقہ شعبے میں اسپیشلائزیشن کے لیے بھیجا جائے گا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے ساہیوال میں پہلی کامیاب انجیو پلاسٹی پر اظہارِ مسرت اور میو اسپتال کوابلیشن سینٹر میں علاج کے لیے فول پروف اور شفاف طریقے کار وضع کرنے کی ہدایت کی۔

انہوں نے پنجاب کے مختلف اداروں کے بورڈ آف منیجمنٹ کی منظوری اور کہا کہ پنجاب کے ہر اسپتال میں غریب مریض کو پیسے خرچ کیے بغیر علاج کی سہولت ملنی چاہیے، چاہتی ہوں کہ کینسر کے ہر مریض کا علاج ممکن بنایا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔

فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔

حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔

ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔

انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘

ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔

یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی