ترکیہ‘ آیندہ برس تیز رفتار ٹرین متعارف کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 7th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
انقرہ : ترکیہ کی جانب سے ایک بڑا اعلان سامنے آیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ وہ آئندہ سال ایک تیز رفتار ٹرین لانچ کردے گا۔
عالمی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ترک حکومت کی جانب سے وہ اگلے سال 2026 ءمیں اپنی پہلی مقامی سطح پر تیار کردہ ہائی اسپِیڈ ٹرین لانچ کردے گا۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے اپنے صدارتی سالانہ پروگرام میں ہدف شامل کیا ہے کہ اگلے سال مقامی سطح پر تیار کردہ الیکٹرک ٹرین کے علاوہ ایک ہائی اسپِیڈ ٹرین متعارف کرائی جائے گی۔ مذکورہ ٹرین کی ممکنہ زیادہ سے زیادہ رفتار 225 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی ہوگی۔
اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد صرف ٹرین کی رفتار میں اضافہ نہیں بلکہ ملکی ریلوے صنعت کی خودکفالت، مقامی تحقیق و ترقی اور سفر کی تیزی کو بڑھانا بھی ہے۔ یہ بات بھی علم میں رہے کہ کمپنی توراساس اس منصوبے کی مرکزی کردار ہے، جس نے سیکریا صوبے میں ایک ہائی اسپِیڈ ٹرین فیکٹری قائم کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔