پنجاب میں نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے قیام کیلیے بڑی شرط عائد کر دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
پنجاب میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی اور زیرِ زمین پانی کے تحفظ کے لیے ادارہ تحفظ ماحولیات پنجاب (ای پی اے) نے نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے قیام پر بڑی پابندی عائد کر دی ہے جب کہ اب صوبے میں کسی بھی نئی ہاؤسنگ اسکیم کو اس وقت تک منظوری نہیں دی جائے گی جب تک وہ اپنے لے آؤٹ پلان میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے لیے جگہ مختص نہیں کرے گی۔
ڈی جی ماحولیات پنجاب عمران حامد شیخ کے مطابق یہ فیصلہ ماحول اور انسانی صحت دونوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہو چکا تھا کیونکہ بیشتر ہاؤسنگ سوسائٹیز بغیر ٹریٹمنٹ گندا پانی چھوڑ رہی تھیں، جو نہ صرف زمین بلکہ قریبی آبی ذخائر کو بھی آلودہ کر رہا تھا۔
ان کے مطابق کسی بھی نئی اسکیم کو ماحولیاتی منظوری صرف اسی وقت دی جائے گی جب وہ اپنے منصوبے میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کا تفصیلی ڈیزائن پیش کرے گی، اور اس کے لیے مخصوص زمین کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔
عمران حامد شیخ نے واضح کیا کہ اب بغیر صفائی کے گندے پانی کا اخراج کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے کی تمام ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، بشمول ایل ڈی اے، ایف ڈی اے، جی ڈی اے اور آر ڈی اے، کو ہدایت جاری کر دی گئی ہے کہ ماحولیاتی منظوری کے عمل میں سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔
ڈی جی ماحولیات کے مطابق ٹریٹمنٹ پلانٹ کا قیام نہ صرف آلودگی کو کم کرے گا بلکہ زیرِ زمین پانی کو بھی محفوظ بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو اس فیصلے پر سختی سے عمل کرانے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ہاؤسنگ سوسائٹیز انسانی صحت اور ماحول کے لیے خطرہ نہ بنیں۔
یہ فیصلہ ای پی اے پنجاب کی اس پالیسی کا تسلسل ہے جس کے تحت گزشتہ ماہ گھروں اور پلازوں کے لیے سیپٹک ٹینک بنانا بھی لازمی قرار دیا گیا تھا۔
اس پالیسی کے مطابق ہر گھر کے ساتھ تین خانوں والا سیپٹک ٹینک بنایا جانا ضروری ہے، جو گندے پانی میں موجود تقریباً 70 فیصد گندگی اور 40 فیصد آلودگی کو کم کرتا ہے۔
ای پی اے کے مطابق ڈوئل واٹر مینجمنٹ کے اس ماڈل کے تحت گھر کی سطح پر سیپٹک ٹینک اور سوسائٹی کی سطح پر واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ دونوں لازم ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق یہ نظام گندے پانی کو براہِ راست زمین میں جانے سے روکتا ہے، جس سے ہیضہ، ٹائیفائیڈ اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریوں کے پھیلاؤ میں نمایاں کمی ممکن ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہاؤسنگ سوسائٹیز ٹریٹمنٹ پلانٹ کے مطابق کے لیے
پڑھیں:
افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA
— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026
اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا
طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔
آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سیلاب نورستان