امریکی وزیرِ دفاع طیارہ حادثے میں بال بال بچ گئے؛ ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
برطانیہ میں امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کے سرکاری طیارے کو اُڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد ہنگامی طور پر اتارنا پڑ گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی وزیر دفاع بیلجیئم میں ہونے والے نیٹو کے وزرائے دفاع کے اجلاس میں شرکت کے بعد واشنگٹن جا رہے تھے۔
اُڑان بھرنے کے بعد طیارہ جب آئرلینڈ کے جنوب مغربی ساحل کے قریب پہنچا تو طیارے کی اونچائی کم ہونا شروع ہوگئی تھی۔
اسی دوران پرواز نے “7700” ایمرجنسی اسکواک کوڈ بھیجا جو کسی بڑی فنی خرابی یا ایمرجنسی کی نشاندہی کرتا ہے۔
جس کے جواب میں طیارے کو برطانیہ کے علاقے سفولک میں باضابطہ طور پر لینڈ کا کہا گیا تھا۔ رن وے کلیئر ہونے پر طیارے نے محفوظ لینڈنگ کی۔
محفوظ لینڈنگ کے بعد امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ شکر ہے، سب خیریت ہے۔ مشن جاری رہے گا۔
یاد رہے کہ کسی امریکی وزیر کے طیارے کے ساتھ ایسا حادثہ پہلا واقعہ نہیں ہے اس سے قبل فروری 2025 میں بھی امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے طیارے کو کاک پِٹ کی کھڑکی میں دراڑ پڑنے کے باعث واپس لوٹنا پڑا تھا۔
.
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: امریکی وزیر
پڑھیں:
وزیراعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی کا دھرنا ہنگامی مشاورت کے بعد ختم، عدالت جانے کا اعلان
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی: خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا 10 گھنٹے سے جاری دھرنا ہنگامی مشاورت کے بعد ختم ہوگیا، جس کے بعد انہوں نے عدالت جانے کا اعلان کیا ہے۔
نجی ٹی وی کی ر پورٹ کے مطابق دھرنے میں علامہ ناصر عباس کی آمد کے بعد ایک مشاورتی نشست ہوئی جس میں مختلف سیاسی رہنماؤں سمیت محمود خان اچکزئی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی بھی شریک تھے۔
مشاورت کے بعد فیصلہ سامنے آیا کہ نمازِ فجر کے فوراً بعد وزیرِ اعلیٰ اپنا دھرنا ختم کر دیں گے اور آئندہ لائحہ عمل کے لیے منگل کے روز دوبارہ کارکنوں کو احتجاج کی کال دی جائے گی۔ اسی دوران یہ بھی طے پایا کہ عدالت سے رجوع کرتے ہوئے آج ہی توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی جائے گی تاکہ قانونی راستے سے بھی اس معاملے کو آگے بڑھایا جا سکے۔
مشاورت مکمل ہونے کے بعد علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی دھرنے کے مقام سے روانہ ہو گئے، جب کہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی وہیں موجود رہے۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ یہ دھرنا کسی طے شدہ منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔ وزیرِ اعلیٰ کو یقین تھا کہ بطور صوبائی چیف ایگزیکٹو انہیں اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت ملے گی، لیکن حالات اس کے برعکس نکلے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی شرافت کی زبان نہیں سمجھتا۔ سہیل آفریدی نے جمہوری حق کے اظہار کے لیے دھرنے کا راستہ اختیار کیا، بظاہر یہ دھرنا عدالتی حکم تک جاری رہتالیکن حکمتِ عملی کو آگے بڑھانے کے لیے وقتی طور پر اسے ختم کرنا ضروری ہو گیا۔
انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ اگر بانی چیئرمین کی بہنوں کی ملاقات یقینی بنانی ہے تو پارٹی اپنی عوامی قوت استعمال کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے شرم کی بات ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں اور ہم ایوانوں میں بیٹھ کر کارروائی آگے بڑھاتے رہیں۔