بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کے خصوصی نمائندے کی امریکی نمائندہ سرجیو گور سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر کے خصوصی نمائندے لطفی صدیقی نے بدھ کے روز وائٹ ہاؤس کے ویسٹ ونگ میں امریکا کے خصوصی نمائندے برائے جنوبی و وسطی ایشیا اور بھارت کے نامزد سفیر سرجیو گور سے اعلیٰ سطحی ملاقات کی۔
تعاون اور اصلاحات پر تفصیلی گفتگو
ملاقات میں لطفی صدیقی نے گرمجوشی سے استقبال اور مفید و جامع بات چیت پر امریکی نمائندے کا شکریہ ادا کیا۔
دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، معاشی اور انتظامی اصلاحات، بالخصوص لیبر مارکیٹ کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تفصیلی گفتگو کی۔
علاقائی تعلقات اور اطلاعاتی خطرات پر بات چیت
اس موقع پر علاقائی و عالمی تعلقات، انتخابی عمل، گمراہ کن معلومات کے خطرات اور براہِ راست رابطوں کی اہمیت پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش کا غیرجانبدار تحریک کے فیصلوں کے عمل میں اصلاحات پر زور
لطفی صدیقی نے سرجیو گور کی جانب سے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس سے متعلق مثبت تاثرات پر شکریہ ادا کیا اور بنگلہ دیش کے دوطرفہ و علاقائی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
ڈھاکا کے دورے کی دعوت
خصوصی نمائندے نے امریکی سفیر کو ڈھاکا کے دورے کی دعوت بھی دی۔ یہ ملاقات اقوام متحدہ کی 80ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر گزشتہ ماہ نیویارک میں پروفیسر محمد یونس اور سرجیو گور کے درمیان ہونے والی بات چیت کے تسلسل میں ہوئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا بنگلہ دیش چیف ایڈوائزر بنگلہ دیش سرجیو گور لطفی صدیقی واشنگٹن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بنگلہ دیش چیف ایڈوائزر بنگلہ دیش سرجیو گور لطفی صدیقی واشنگٹن چیف ایڈوائزر لطفی صدیقی بنگلہ دیش سرجیو گور
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔