بنگلہ دیش کا غیرجانبدار تحریک کے فیصلوں کے عمل میں اصلاحات پر زور
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
بنگلہ دیش کے خارجہ امور کے مشیر توحید حسین نے غیرجانبدار تحریک (NAM) کے رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ باہمی اتحاد کو فروغ دیتے ہوئے فیصلہ سازی کے عمل میں اصلاحات لائیں تاکہ مشترکہ کمزوریوں کا بہتر طور پر مقابلہ کیا جا سکے۔
یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا میں منعقدہ غیرجانبدار تحریک کے 19ویں وزارتی وسط مدتی اجلاس کے اجلاسِ عام سے خطاب کرتے ہوئے توحید حسین نے کہا کہ گزشتہ سال کی عوامی بغاوت کے بعد بنگلہ دیش کے عوام نے ادارہ جاتی اصلاحات، حقوق کے تحفظ اور احتساب کے فروغ کے عزم کی تجدید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش کو پاکستان اور بھارت سے کیسا تعلق رکھنا چاہیے؟ کارکنوں نے اپنی جماعتوں کو بے نقاب کردیا
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین کو بااختیار بنانے اور نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے تاکہ ایک مضبوط اور خوشحال قوم تشکیل دی جا سکے۔
خارجہ مشیر نے کہا کہ غیرجانبدار تحریک کے رکن ممالک کو باہمی بداعتمادی اور تقسیم کی بجائے اتحاد اور ہم آہنگی پر توجہ دینی چاہیے تاکہ تحریک کے بانی اصولوں، مساوات، یکجہتی اور انصاف کو آگے بڑھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ جب ہم اقوامِ متحدہ میں اصلاحات پر غور کر رہے ہیں، ہمیں این اے ایم کے فیصلہ سازی کے طریقہ کار کو بھی بہتر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ تحریک کی وحدت کو ازسرِ نو مستحکم کیا جا سکے۔
دوپہر کے اجلاس میں توحید حسین نے فلسطین سے متعلق غیرجانبدار تحریک کی وزارتی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی، جس کے بنگلہ دیش بھی رکن ہے۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے مقصد کے لیے بنگلہ دیش کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش میں بھارتی مصنوعات کے بائیکاٹ سے ساڑھی کی صنعت بحران کا شکار
غزہ میں حالیہ جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کے تحت مشرقی یروشلم ریاستِ فلسطین کا دارالحکومت ہوگا۔
خارجہ مشیر نے مزید توجہ دلائی کہ بنگلہ دیش طویل عرصے سے لاکھوں روہنگیا مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے، جو ایک بھاری انسانی بوجھ ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کی وطن واپسی کو یقینی بنانے میں کردار ادا کرے۔
اجلاس کے موقع پر توحید حسین نے یوگنڈا کے ساتھ ایک مفاہمتی دستاویز پر بھی دستخط کیے، جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان باقاعدہ خارجہ دفتر مشاورت کا نظام قائم کیا گیا ہے تاکہ دوطرفہ تعاون کے تمام شعبوں پر بات چیت جاری رکھی جا سکے۔
توحید حسین کی قیادت میں بنگلہ دیش کا وفد غیرجانبدار تحریک کے 19ویں وزارتی وسط مدتی اجلاس میں شرکت کر رہا ہے، جہاں 16 اکتوبر کو فلسطین پر وزارتی اعلامیہ اور ایک جامع سیاسی اعلامیہ منظور کیے جانے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش توحید حسین غزہ غیرجانبدار تحریک یوگنڈا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش توحید حسین غیرجانبدار تحریک یوگنڈا غیرجانبدار تحریک کے توحید حسین نے بنگلہ دیش انہوں نے جا سکے
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :