تحریک لبیک، زخمی کارکنوں کو اسپتال سے چھٹی پر پکڑنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
مظاہرے پر 2716 کارکنان گرفتار،مدارس کیخلاف بھی ایکشن کی تیاری
جیوفینسنگ مکمل، واٹس ایپ گروپس میں شامل افراد کے گرد گھیرا تنگ کردیا
لاہور میں ٹی ایل پی کے مظاہرے میں پُرتشدد کاررائیوں کے الزام میں پولیس نے پنجاب بھر سے اب تک 2716 ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔تفصیلات کے مطابق پنجاب پولیس نے پولیس نے توڑ پھوڑ کرنے والے 2716 پرتشدد مظاہرین کو گرفتار کیا، جس میں سے لاہور سے 251 ، شیخوپورہ سے 178، منڈی بہاؤالدین سے 190 پرتشدد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔اس کے علاوہ راولپنڈی میں 155، فیصل آباد میں 143 ، گوجرانوالہ میں 135، سیالکوٹ میں 128، اٹک میں 121 پرتشدد مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔پولیس کے مطابق ملزمان کے خلاف پنجاب بھر کے تھانوں میں 76 مقدمات درج کئے ہیں، سب سے زیادہ 39 مقدمات لاہور میں درج ہوئے جبکہ شیخوپورہ میں 8 مقدمات درج ہوئے۔پنجاب بھر میں پرتشدد مظاہرین کے حملوں سے 250 پولیس افسران اور اہلکار زخمی جبکہ ایک پولیس انسپکٹر شہید ہوا۔پولیس کے مطابق لاہور میں سب سے زیادہ 142 افسران اور اہلکار زخمی ہوئے جبکہ شیخوپورہ میں 48 پولیس آفسران اور اہلکار زخمی ہوئے۔دوسری جانب مرید کے میں پولیس کریک ڈاؤن کے دوران احتجاج کرنے پر 253 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ مزید گرفتاریوں کے لیے جیوفینسنگ مکمل ، کلوزسرکٹ فوٹیجز کا تجزیہ جاری ہے۔پولیس نے اسپتالوں میں زیر علاج زخمی کارکنوں کو ڈسچارج ہونے پر گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ املاک کی توڑ پھوڑ اور بلوے میں ملوث افراد کی نشاندہی کے لیے موبائل فرانزک بھی جاری ہے۔رپورٹ کے مطابق پرتشدد احتجاج ، بلوے اور توڑ پھوڑ کرنے والے کارکنوں کے مدارس کی تفصیل بھی اکٹھی کرلی گئی جبکہ اعلی حکام کی ہدایات کے بعد مدارس کے خلاف بھی ایکشن متوقع ہے۔گرفتار ملزمان کے واٹس ایپ گروپس میں شامل افراد کی شناخت کا عمل شروع کردیا گیا ہے جبکہ پرتشدد کارروائیوں پر درج مقدمات میں دہشت گردی ، اقدام قتل ، ڈکیتی ، پولیس مقابلے کی دفعات شامل ہیں۔
.ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پرتشدد مظاہرین کو گرفتار پولیس نے کے مطابق
پڑھیں:
ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 13 کارکنوں کی نظربندی ختم کرنے کا حکم دیدیا
درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ سیاسی کارکنان کی اس نوعیت کی نظر بندی نہ صرف خلافِ قانون ہے بلکہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ حکومت مخالف کارروائی کے خدشے کے پیش نظر نظر بندی کا حکم جاری کیا گیا تھا، جس پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نظر بندی کے تمام احکامات منسوخ کرکے کارکنوں کی رہائی کا حکم دیا۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کارکنان کی نظر بندی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے کارکنوں کی رہائی کا حکم جاری کر دیا۔ لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 13 کارکنان کی غیرقانونی نظربندی کیخلاف دائر درخواست منظور کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر ننکانہ کے جاری کردہ نظر بندی کے احکامات کو کالعدم قرار دیدیا ہے۔ جسٹس فاروق حیدر نے سہیل منظور کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواستگزار کے وکیل ملک احد اعوان نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈی سی ننکانہ نے 21 نومبر کو قانون اور اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہوئے 13 سیاسی کارکنان کی غیرقانونی نظربندی کے احکامات جاری کیے تھے۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ سیاسی کارکنان کی اس نوعیت کی نظر بندی نہ صرف خلافِ قانون ہے بلکہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ حکومت مخالف کارروائی کے خدشے کے پیش نظر نظر بندی کا حکم جاری کیا گیا تھا، جس پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے نظر بندی کے تمام احکامات منسوخ کرکے کارکنوں کی رہائی کا حکم دیا۔