مذہبی جماعت کے خلاف کریک ڈاؤن، 2500 سے زائد افراد زیر حراست
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پنجاب کے مختلف شہروں میں پولیس نے ایک مذہبی جماعت کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے، جس کے دوران اب تک 2500 سے زائد افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ پولیس کے مطابق لاہور سے سب سے زیادہ 251 افراد گرفتار کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر اضلاع میں بھی بڑی تعداد میں گرفتاریوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ گوجرانوالہ سے 135، شیخوپورہ سے 178، سیالکوٹ سے 128، گجرات سے 80، راولپنڈی سے 196 اور منڈی بہاءالدین سے 210 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اٹک اور صادق آباد سمیت دیگر اضلاع سے بھی گرفتاریوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
پولیس کے مطابق مظاہرین کی جانب سے حملوں اور پرتشدد کارروائیوں کے بعد صوبے بھر کے مختلف تھانوں میں مجموعی طور پر 76 مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ ان پرتشدد مظاہروں کے دوران ایک پولیس انسپیکٹر شہید جبکہ 250 پولیس افسران اور اہلکار زخمی ہوئے۔ صرف لاہور میں 142 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ شیخوپورہ میں 48 اہلکار زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے مزید کارروائیاں جاری رہیں گی، اور قانون کی عملداری یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
آئین ریاست پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہےکہ وہ ہر شہری کےحقِ زندگی کا تحفظ کرے اور حراستی تشدد اور قتل کو روکے: سپریم کورٹ
---فائل فوٹوسپریم کورٹ نے پولیس کی زیرِ حراست ملزمان پر تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
زیرِ حراست ملزمان پر تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف 7 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس جمال خان مندوخیل نے تحریر کیا ہے۔
سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ تشدد، غیرانسانی یا توہین آمیز سلوک، جن میں ذاتی وقار کی پامالی شامل ہو، کسی بھی صورتِحال میں جائز نہیں، بعض اوقات پولیس کی جانب سے تشدد ماورائے عدالت قتل کا باعث بنتا ہے کیونکہ پولیس عملی طور پر استثنیٰ کے مفروضے کے تحت مبینہ مجرم کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے یہ طریقہ اختیار کرتی ہے۔
کراچی پولیس حراست میں ایک اور شہری سکندر کی ہلاکت...
سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اس عمل کو روکنے کے لیے پولیس فورس پر ایک مؤثر، خصوصی اور بیرونی نگرانی ناگزیر ہے، زندگی کے حق کو سب سے اعلیٰ انسانی حق قرار دیا گیا ہے، آئین ریاست پر یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ ہر شہری کے حقِ زندگی کا تحفظ کرے اور حراستی تشدد اور قتل کو روکے، غیرقانونی حراست، گرفتاری، بربریت، تشدد اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف یہ آئینی ضمانتیں بنیادی اور قانونی اصولوں کی اساس ہیں۔
سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے میں لکھا گیا کہ غیرقانونی حراست اور تشدد کسی بھی صورت میں نہ تو پسندیدہ ہیں اور نہ ہی قابلِ جواز۔ بنیادی حقوق کا اصول ایک محفوظ اور منصفانہ معاشرے کو یقینی بنانا ہے، پولیس فورس قانون کی محافظ ہے اور آئین میں درج بنیادی حقوق کے فریم ورک کو برقرار رکھنے کی پابند ہے۔ پولیس ہر شخص کی جان، آزادی اور وقار کے تحفظ کی ذمہ دار ہے، قانون پر عمل کیے بغیر کسی شخص کو نقصان پہنچانا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے، قانون پرعمل کیے بغیر کسی شخص کو نقصان پہنچانا شفاف ٹرائل کے حق کی بھی خلاف ورزی ہوتی ہے، پولیس کو قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو گرفتار کرنے کا حق حاصل ہے لیکن گرفتاری آئین و قانون کے مطابق ہونی چاہیے۔
پولیس کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت کے باہر فائرنگ کرنے والے دونوں ملزمان گرفتار کرلیے گئے ہیں۔
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آئینی و قانونی تقاضوں کے برخلاف گرفتاری، غیرانسانی رویہ اپنانا، ظلم یا تشدد کرنا مجرمانہ فعل ہے، غیر انسانی رویہ اپنانا، ظلم یا تشدد کرنا مجرمانہ فعل مس کنڈکٹ میں بھی شمار ہوتا ہے۔
تحریری فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ سے رجوع کرنے والے درخواست گزاران پنجاب پولیس کے ایک منظم ادارے کے اہلکار تھے، ان درخواست گزاران کی ملازمت کی شرائط متعلقہ پولیس قوانین اور 1975 کے قواعد کے تحت ہیں، موجودہ کیس میں زریاب خان کی غیرقانونی حراست، بدسلوکی اور تشدد کے الزامات تھے، یہ الزامات درخواست گزاران کے خلاف بطور پولیس اہلکار لگائے گئے تھے۔ درخواست گزاران نے اپنے اس فرض کی خلاف ورزی کی، درخواست گزاران کا یہ عمل اختیارات کے غلط استعمال کے مترادف ہے۔