جعلی نیوز نیٹ ورک بے نقاب، مرکزی کرداروں کی فہرست تیار ، گرفتاریوں کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
حکومتِ پاکستان نے جعلی خبروں کیخلاف بڑا ایکشن لینے کا اعلان کر دیا ہے اور ملوث افراد کیخلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہوں گے۔ ایف آئی اے سائبر کرائم اور خصوصی یونٹس کی جانب سے فوری گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ملک میں جعلی اور جھوٹی خبریں پھیلا کرکے بدامنی کو فروغ دینے والا فیک نیوز نیٹ ورک بے نقاب ہو گیا ہے۔ مرکزی کرداروں کی فہرست بھی تیار کرلی گئی ہے۔ اس حوالے سے گرفتاریوں کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکومتِ پاکستان نے جعلی خبروں کیخلاف بڑا ایکشن لینے کا اعلان کر دیا ہے اور ملوث افراد کیخلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمات درج ہوں گے۔ ایف آئی اے سائبر کرائم اور خصوصی یونٹس کی جانب سے فوری گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو نوٹس کرکے کہا گیا کہ فیک مواد 24 گھنٹے میں ہٹا دیا جائے، بار بار خلاف ورزی پر اکاؤنٹس مستقل معطلی کی سفارش کی گئی۔
عوام کو وارننگ دی گئی ہے کہ غیر مصدقہ ویڈیو/ کلپ شیئر کرنے پر بھی کارروائی ممکن ہے۔ ریاستی اداروں کیخلاف نفرت انگیز جھوٹ پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہے۔ اوورسیز نیٹ ورک کی ٹریسنگ، سفارتخانوں کے ذریعے سخت اقدامات بھی زیر غور ہیں۔ بیرونِ ملک ملوث افراد کی انکوائری، قانونی اور سفارتی کارروائی کی تیاری کی گئی ہے۔ ریڈ نوٹس، بین الاقوامی تعاون کے آپشنز پر مشاورت کی جا رہی ہے۔ چینلز اور بلاگرز کو ہدایت کی گئی ہے کہ کوئی بھی مواد نشر کرنے سے پہلے دوہری تصدیق لازمی کریں۔ گمراہ کن ہیش ٹیگز اور ٹرول سیلز کیخلاف ٹارگٹڈ آپریشن کیا جائے گا۔ ٹرانزیکشنز کی سکریننگ شروع کر دی گئی ہے، ہنگامی حالات میں افواہ بازی پر اضافی سزائیں لاگو ہوں گی۔
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گئی ہے
پڑھیں:
سرکاری مشینری نئے صوبوں کی مہم چلا رہی ہے، عوامی تحریک
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی جنرل سیکریٹری ایڈووکیٹ ساجد حسین مہیسَر، مرکزی نائب صدر ستار رند، مرکزی رہنما لال جروار، ایڈووکیٹ سروان جتوئی اور ایڈووکیٹ آصف کوسو نے اپنے مشترکہ پریس بیان میں کہا ہے کہ سرکاری مشینری کے ذریعے نئے صوبوں کی مہم چلائی جارہی ہے۔ وفاقی حکومت، پیپلز پارٹی کی سہولت کاری سے سندھ کی وحدت پر حملہ کر رہی ہے۔ سندھ کو تقسیم کرنے، این ایف سی ایوارڈ میں صوبوں کا حصہ کم کرنے، نیا بلدیاتی نظام مسلط کرنے اور دیگر ملک دشمن منصوبوں کی تکمیل کے لیے 28ویں ترمیم لائی جا رہی ہے۔ مخصوص کاروباری میڈیا ہاؤسز کے ذریعے نئے صوبوں کی مہم کو تیز کیا جا رہا ہے اور اس مقصد کے لیے نجی یونیورسٹیز کو استعمال کیا جا رہا ہے۔رہنماؤں نے مزید کہا کہ ”18ویں ترمیم کی واپسی کی مخالفت کریں گے” والا پیپلز پارٹی کا بیان محض ڈھونگ اور فریب ہے۔ پیپلز پارٹی 2023ء میں بورڈ آف انویسٹمنٹ ترمیمی ایکٹ منظور کرا کے 18ویں ترمیم کو عملی طور پر ختم کر چکی ہے۔ 18ویں ترمیم کو غیر آئینی طور پر غیر مؤثر بنا کر ایس آئی ایف سی کا ادارہ قائم کیا گیا، جسے صوبوں کی زمینوں اور وسائل کی فروخت کا لائسنس دیا گیا ہے۔ ایس آئی ایف سی کے تحت سندھ کی زمینوں اور وسائل پر قبضے ہو رہے ہیں، جنہیں فوری طور پر روکا جائے، اور اس ادارے کو فی الفور ختم کیا جائے۔رہنماؤں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران بلاول نے کہا تھا کہ ”جو کارونجھر کاٹے گا، اس کے ہاتھ کاٹ دیں گے”، لیکن اب بلاول کی اپنی حکومت کارونجھر کو کاٹنے کے لیے آئینی عدالت سے فیصلہ لینا چاہتی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کی غلط بیانی عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکی ہے۔ کارونجھر کی کٹائی روکنے کے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف آئینی عدالت میں جانا خود پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو زرداری کی سندھ دشمنی کو ظاہر کرتا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت اقتدار کی لالچ میں سندھ کا سودا کر رہی ہے۔