سندھ بار کے انتخابات لڑنے کا معاملہ، وزیر داخلہ کیخلاف درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ میں صوبائی وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار کا سندھ بار کونسل کے انتخابات لڑنے کا معاملہ، صوبائی وزیر ضیاء الحسن لنجار و دیگر کے خلاف درخواست دائر کردی گئی۔ درخواست ایڈووکیٹ اشفاق پنہور نے دائر کی ہے جس میں صوبائی وزیر
داخلہ، ایڈووکیٹ جنرل اور سندھ بار کونسل کے ریٹرننگ افسرکو فریق بنایا گیا ہے ضیاء الحسن لنجار صوبائی وزیر داخلہ و قانون ہیں، درخواست گزار کا موقف ہے کہ ضیاء الحسن لنجار نے سندھ بار کونسل کے انتخابات کیلیے کاغذات نامزدگی جمع کروائے، ضیاء الحسن لنجار شہید بینظیر آباد سے سندھ بار کونسل کے انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں، ضیاء الحسن لنجار سندھ اسمبلی کے رکن بھی ہیں، ضیاء الحسن لنجار حکومت سے الاؤنس سمیت دیگر مراعات بھی حاصل کر رہے ہیں، رولز کے مطابق ضیاء الحسن لنجار سندھ بار کونسل انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتے، ضیاء الحسن لنجار کے سندھ بار کونسل کے انتخاب میں کاغذات مسترد کیے جائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سندھ بار کونسل کے ضیاء الحسن لنجار وزیر داخلہ
پڑھیں:
صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
متاثرہ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانی شہریوں کی رہائی سے متعلق معاملے پر متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا ہے۔ متاثرہ خاندان نے بعض سفارتی ذرائع سے زیر گردش خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صومالی بحری قزاقوں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کبھی 10 ملین ڈالر کے تاوان کا مطالبہ نہیں کیا۔ خاندان کے مطابق مغوی پاکستانیوں نے خود اطلاع دی ہے کہ بحری قزاق ان کی رہائی کے لیے رقم کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ قزاقوں نے ابتدا میں 3 ملین ڈالر تاوان مانگا تھا جبکہ اب یہ مطالبہ کم کرکے 2.5 ملین ڈالر کردیا گیا ہے۔ خاندان نے مزید کہا کہ میڈیا اور سفارتی ذرائع میں گردش کرنے والی بعض اطلاعات حقائق کے منافی ہیں اور ان کی تصدیق نہیں کی گئی۔
ان کے بقول انہیں اس بات کا بھی کوئی علم نہیں کہ بحری جہاز "آنر 25" کے مالک، صومالیہ کی حکومت اور بحری قزاقوں کے درمیان کس نوعیت کی بات چیت جاری ہے۔ متاثرہ خاندان نے بتایا کہ بحری قزاق مسلسل پاکستانی نیوز چینلز سے براہِ راست بات چیت کی خواہش کا اظہار کر رہے ہیں اور اس حوالے سے بار بار مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ خاندان نے حکومتِ پاکستان، وزارتِ خارجہ اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی ہے کہ مغوی پاکستانیوں کی جلد اور محفوظ رہائی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور اہلِ خانہ کو صورتحال سے باخبر رکھا جائے۔ واضح رہے کہ صومالی بحری قزاقوں کے قبضے میں موجود پاکستانیوں کی رہائی کے حوالے سے مختلف اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، تاہم متاثرہ خاندان نے اپنے مقف میں بعض زیر گردش دعوں کی واضح تردید کی ہے۔